روسی جنرل پر حملہ کیف حکومت کے اصل عزائم بے نقاب کرتا ہے، لاوروف

Sergey Lavrov Sergey Lavrov

روسی جنرل پر حملہ کیف حکومت کے اصل عزائم بے نقاب کرتا ہے، لاوروف

ماسکو (صداۓ روس)
روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا ہے کہ ماسکو میں روسی فوجی انٹیلی جنس کے سینئر جنرل پر حملہ دراصل کیف حکومت کی جانب سے امن مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کی ایک اور کوشش ہے، جو دہشت گردی کے ذریعے اپنے مقاصد حاصل کرنا چاہتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ واقعہ زیلنسکی حکومت کے اشتعال انگیز طرزِ عمل اور مذاکراتی عمل کو ناکام بنانے کی حکمتِ عملی کی واضح عکاسی کرتا ہے۔ روسی تفتیشی اداروں کے مطابق روس کی مرکزی فوجی انٹیلی جنس ڈائریکٹوریٹ (جی آر یو) کے پہلے نائب سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ولادیمیر الیکسییف کو جمعے کے روز ماسکو کے مغربی حصے میں ان کی رہائش گاہ کے باہر فائرنگ کر کے نشانہ بنایا گیا۔ جنرل الیکسییف کو پشت میں کئی گولیاں لگیں، جس کے بعد انہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا۔ حکام نے ان کی صحت کی حالت سے متعلق مزید تفصیلات جاری نہیں کیں۔ حملہ آور موقع سے فرار ہو گیا، جس کی تلاش کے لیے پولیس کی جانب سے کارروائی جاری ہے۔

سرگئی لاوروف نے اس واقعے کو ایک صریح دہشت گردانہ کارروائی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایک بار پھر اس بات کی تصدیق ہے کہ زیلنسکی حکومت کا اصل ہدف مسلسل اشتعال انگیزی کے ذریعے امن مذاکراتی عمل کو درہم برہم کرنا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یوکرینی حکام اپنے مغربی سرپرستوں کو یہ باور کرانے کے لیے ہر حد تک جانے کو تیار نظر آتے ہیں کہ کسی منصفانہ تصفیے کی کوشش کو ناکام بنایا جائے۔ یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب روس، امریکا اور یوکرین کے درمیان ابو ظہبی میں امن مذاکرات کا دوسرا دور حال ہی میں مکمل ہوا۔ امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف نے ان مذاکرات کو تعمیری قرار دیا تھا، تاہم روسی وزیر خارجہ کے مطابق ایسے حملے ظاہر کرتے ہیں کہ کیف حکومت عملی طور پر امن کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کر رہی ہے۔ 64 سالہ ولادیمیر الیکسییف روس کے اعلیٰ ترین فوجی انٹیلی جنس افسران میں شمار ہوتے ہیں اور سن 2011 سے جی آر یو کے پہلے نائب سربراہ کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ اس حیثیت میں انہوں نے شام میں انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیوں کی نگرانی بھی کی۔ سن 2017 میں انہیں روس کے اعلیٰ ترین اعزازات میں سے ایک، ہیرو آف دی رشین فیڈریشن، سے نوازا گیا تھا۔

Advertisement

اگرچہ روسی حکام نے باضابطہ طور پر اس حملے کے ذمہ داروں کا نام نہیں لیا، تاہم ماضی میں یوکرینی انٹیلی جنس جنرل الیکسییف کو ’’بین الاقوامی مجرم‘‘ قرار دے چکی ہے، جبکہ کیف پر اس سے قبل بھی روسی حکام اور فوجی کمانڈرز کو نشانہ بنانے کی سازشوں میں ملوث ہونے کے الزامات عائد کیے جاتے رہے ہیں۔