نوآبادیاتی دور کے قتل عام پر برطانیہ کو بھاری ہرجانہ ادا کرنے کا حکم
ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
نائجیریا کی ایک عدالت نے برطانیہ کو حکم دیا ہے کہ وہ نوآبادیاتی دور میں کوئلہ کان کنوں کے قتل کے معاملے میں متاثرہ خاندانوں کو چار سو بیس ملین پاؤنڈ، یعنی تقریباً پانچ سو ستر ملین ڈالر، بطور معاوضہ ادا کرے۔ یہ فیصلہ اینوگو ہائی کورٹ کے جج انتھونی اونووو نے سنایا۔ عدالت کے مطابق اٹھارہ نومبر انیس سو انچاس کو اینوگو کے ایوا ویلی کوئلہ کان میں کام کرنے والے مزدوروں نے خراب کام کے حالات، اجرت میں نسلی امتیاز اور بقایاجات کی عدم ادائیگی کے خلاف احتجاج کیا تھا۔ اس دوران برطانوی نوآبادیاتی پولیس نے فائرنگ کر کے اکیس نائجیرین کان کنوں کو ہلاک کر دیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ یہ ہلاکتیں غیر قانونی اور ماورائے عدالت قتل کے زمرے میں آتی ہیں اور یہ حقِ زندگی کی سنگین خلاف ورزی ہیں۔ فیصلے کے مطابق ہر مقتول کے خاندان کو بیس ملین پاؤنڈ بطور مؤثر معاوضہ ادا کیا جائے گا، جبکہ مکمل ادائیگی تک سالانہ دس فیصد کے حساب سے بعد از فیصلہ سود بھی لاگو ہوگا۔
عدالت نے یہ بھی حکم دیا کہ برطانوی حکومت ساٹھ دن کے اندر نائجیریا اور برطانیہ کے اخبارات میں تحریری معافی شائع کرے اور نوے دن کے اندر اندر معاوضے کی ادائیگی مکمل کی جائے۔ یہ مقدمہ نائجیرین انسانی حقوق کے کارکن گریگ اونہو نے متاثرہ خاندانوں کی جانب سے دائر کیا تھا، جس میں باضابطہ معافی اور ہرجانے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ مقامی میڈیا کے مطابق برطانوی فریق عدالتی کارروائی کے دوران پیش نہیں ہوا۔ درخواست گزاروں کے وکیل یمی اکِنسیئے جارج نے فیصلے کو تاریخی احتساب کی جدوجہد میں ایک اہم سنگِ میل قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ اس حقیقت کی توثیق کرتا ہے کہ حقِ زندگی وقت، سرحدوں اور اقتدار کی تبدیلی سے بالاتر ہوتا ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب افریقہ میں غلامی اور نوآبادیاتی دور کے جرائم پر ہرجانے کے مطالبات ایک بار پھر زور پکڑ رہے ہیں۔
برطانوی حکام کی جانب سے تاحال اس عدالتی فیصلے پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔ ماضی میں برطانیہ نے بعض تاریخی مظالم پر تصفیے تو کیے ہیں، تاہم قانونی ذمہ داری تسلیم کرنے سے انکار کرتا رہا ہے۔ انیس سو تیرہ میں لندن نے کینیا میں ماؤ ماؤ تحریک کے دوران تشدد کا نشانہ بننے والے ہزاروں افراد کو معاوضہ ادا کرنے پر رضامندی ظاہر کی تھی۔