غزہ بورڈ اجلاس میں پاکستان کی شرکت کا فیصلہ
اسلام آباد (صداۓ روس)
غزہ امن بورڈ کا پہلا اجلاس ۱۹ فروری کو واشنگٹن میں منعقد ہوگا، جس کی صدارت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کریں گے۔ اجلاس کے لیے بورڈ کے ارکان اور غزہ ایگزیکٹو کمیٹی کے اراکین کو دعوت نامے ارسال کر دیے گئے ہیں، جبکہ امریکی صدر کی جانب سے شرکا کی میزبانی واشنگٹن میں قائم یو ایس انسٹیٹیوٹ آف پیس میں کی جائے گی۔
سفارتی ذرائع کے مطابق پاکستان کو غزہ بورڈ آف پیس کے اجلاس میں شرکت کی باضابطہ دعوت موصول ہو چکی ہے اور پاکستان نے اجلاس میں شرکت کا فیصلہ بھی کر لیا ہے۔ تاہم پاکستانی نمائندگی کے حتمی لیول کا فیصلہ آئندہ چند روز میں کیا جائے گا۔ اس حوالے سے مشاورت جاری ہے کہ اجلاس میں وزیراعظم شہباز شریف شرکت کریں گے یا نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار پاکستان کی نمائندگی کریں گے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس کے لیے وزیراعظم شہباز شریف کے واشنگٹن جانے کا قوی امکان موجود ہے۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں غزہ کی موجودہ صورتحال، امن و استحکام کے لیے ممکنہ اقدامات اور آئندہ کے لائحہ عمل پر تفصیلی غور کیا جائے گا۔ پاکستان کی شرکت کو خطے میں امن کے قیام اور غزہ میں جاری انسانی بحران کے حل کے لیے سفارتی کوششوں کا اہم حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔
یورپی ممالک ہنگری اور رومانیہ نے بھی غزہ امن بورڈ کے پہلے اجلاس میں شرکت کی تصدیق کر دی ہے، جبکہ دنیا بھر کی دیگر حکومتوں نے اس اجلاس پر محتاط ردعمل ظاہر کیا ہے۔ امریکی نیوز ویب سائٹ ایکسیوس کے مطابق یہ اجلاس واشنگٹن ڈی سی میں قائم یو ایس انسٹیٹیوٹ آف پیس میں منعقد ہوگا اور بورڈ آف پیس کے رہنماؤں کا یہ اجتماع غزہ کی تعمیرِ نو کے لیے فنڈ ریزنگ کانفرنس کے طور پر بھی کام کرے گا۔
ادھر ہنگری کے وزیر اعظم وکٹر اوربان نے گزشتہ روز ایک انتخابی تقریب کے دوران اعلان کیا کہ وہ دو ہفتوں کے اندر واشنگٹن جائیں گے تاکہ بورڈ آف پیس کے اجلاس میں شرکت کر سکیں۔