ایلون مسک کا چاند پر خودکار طور پر پھیلنے والے شہر کا منصوبہ
ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
امریکی ٹیکنالوجی ارب پتی اور اسپیس ایکس کے سربراہ ایلون مسک نے چاند پر ایک ’’خودکار طور پر پھیلنے والے شہر‘‘ کی تعمیر کے منصوبے کا اعلان کیا ہے، جسے انہوں نے مریخ تک پہنچنے کے اپنے دیرینہ خواب پر ترجیح قرار دیا ہے۔ ایلون مسک نے اتوار کو اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ اسپیس ایکس نے اب اپنی توجہ مریخ کے بجائے چاند پر ایک خودکفیل اور بتدریج وسعت اختیار کرنے والے شہر کی تعمیر پر مرکوز کر لی ہے۔ ان کے مطابق یہ منصوبہ دس سال سے بھی کم عرصے میں مکمل کیا جا سکتا ہے، جبکہ مریخ پر اسی نوعیت کی بستی کے قیام میں بیس سال سے زائد وقت لگے گا۔ ایلون مسک کا کہنا تھا کہ اسپیس ایکس کا بنیادی مشن بدستور یہی ہے کہ شعور اور زندگی کو ستاروں تک پھیلایا جائے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ مریخ کے لیے مشن صرف اس وقت ممکن ہوتے ہیں جب زمین اور مریخ مخصوص مدار میں ہم آہنگ ہوتے ہیں، جو تقریباً ہر 26 ماہ بعد ہوتا ہے، اور اس سفر میں چھ ماہ لگتے ہیں۔ اس کے برعکس چاند کے لیے مشن ہر دس دن بعد بھیجے جا سکتے ہیں اور سفر کا دورانیہ تقریباً دو دن ہوتا ہے، جس سے تیز رفتار ترقی اور تجربات ممکن ہوں گے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اسپیس ایکس 2027 کے آس پاس بغیر انسانوں کے اسٹارشپ کو چاند پر اتارنے کا ہدف رکھتی ہے۔ یہ خلائی جہاز ناسا کے آرٹیمس پروگرام کے تحت بھی تیار کیا جا رہا ہے، جس کا مقصد رواں دہائی کے آخر میں دوبارہ انسانوں کو چاند پر بھیجنا ہے۔
ایلون مسک نے واضح کیا کہ مریخ سے متعلق منصوبے ترک نہیں کیے گئے اور اسپیس ایکس آئندہ پانچ سے سات برسوں میں مریخ پر شہر بسانے کی عملی کوششوں کا آغاز کرے گی۔ ان کے مطابق چاند پر شہر کا قیام انسانی تہذیب کے مستقبل کو محفوظ بنانے کی جانب ایک تیز تر قدم ہے۔
یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی طاقتیں چاند پر مستقل موجودگی کے لیے سرگرم ہیں۔ چین اور روس مشترکہ طور پر بین الاقوامی قمری تحقیقی اسٹیشن پر کام کر رہے ہیں، جبکہ روس 2036 کے قریب جوہری توانائی سے چلنے والی تنصیب قائم کرنے کا منصوبہ رکھتا ہے۔ واضح رہے کہ ناسا کا اپولو 17 مشن 1972 میں چاند پر آخری انسانی مشن تھا۔