ٹرمپ کی کینیڈا سے ملانے والے پل کو بند کرنے کی دھمکی
ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کینیڈا اور امریکا کو ملانے والے ایک بڑے نئے پل کے افتتاح کو بند کرنے کی دھمکی دی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جب تک واشنگٹن کو اس منصوبے کے بدلے مکمل معاوضہ اور جزوی ملکیت نہیں دی جاتی، وہ اس پل کو کھلنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ پیر کے روز اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک طویل پیغام میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ونڈسر، اونٹاریو اور ڈیٹرائٹ، مشی گن کو ملانے والا گورڈی ہو انٹرنیشنل برج اس وقت تک نہیں کھولا جانا چاہیے جب تک امریکا کو ان کے بقول “مکمل طور پر معاوضہ” نہ مل جائے اور کینیڈا امریکا کے ساتھ “انصاف اور احترام” کا برتاؤ نہ کرے۔
انہوں نے لکھا کہ امریکا نے کینیڈا کو جو کچھ دیا ہے، اس کے پیش نظر اس اثاثے میں کم از کم پچاس فیصد ملکیت امریکا کی ہونی چاہیے۔ ان کے مطابق امریکی منڈی کی وجہ سے اس پل سے حاصل ہونے والی آمدن غیر معمولی حد تک زیادہ ہوگی۔
صدر ٹرمپ نے الزام عائد کیا کہ اس منصوبے سے کینیڈا کو غیر متناسب فائدہ پہنچ رہا ہے اور دعویٰ کیا کہ یہ پل “تقریباً بغیر کسی امریکی مواد” کے تعمیر کیا گیا۔ انہوں نے سابق صدر باراک اوباما کے دور میں دی گئی ایک چھوٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس کے تحت کینیڈا کو بائے امریکن تقاضوں سے استثنا ملا۔ ٹرمپ نے کینیڈا کی ڈیری پر عائد محصولات، صوبائی سطح پر امریکی الکحل کی فروخت پر پابندیوں اور اوٹاوا کے چین سے روابط پر بھی اپنے دیرینہ تحفظات دہرائے۔
چھ لینوں پر مشتمل یہ نیا کراسنگ حتمی جانچ اور معائنوں کے بعد رواں سال کے آغاز میں کھلنے کی توقع ہے اور یہ دونوں ممالک کے درمیان مصروف ترین تجارتی روابط میں سے ایک بن جائے گا۔ ۲۰۱۸ میں شروع ہونے والے اس منصوبے کی لاگت کا تخمینہ تقریباً چونسٹھ ارب ڈالر لگایا جا رہا ہے، جو ابتدائی اندازے ستاون ارب ڈالر سے زیادہ ہے۔
کینیڈین حکومت کے مطابق اس پل کی مکمل مالی اعانت اوٹاوا نے کی ہے، تاہم اس کی عوامی ملکیت کینیڈا اور ریاست مشی گن کے پاس ہوگی۔ ونڈسر کے میئر ڈرو ڈِلکنز نے صدر ٹرمپ کے بیان کے بعض حصوں کو “بالکل دیوانگی” قرار دیا اور کہا کہ منصوبے کے مشی گن حصے میں امریکی اسٹیل استعمال کیا گیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے اپنی پہلی مدتِ صدارت میں اس پل کی حمایت کی تھی اور اسے ایک “اہم معاشی رابطہ” قرار دیا تھا، حالانکہ ایمبیسیڈر برج کے مالکان کی جانب سے اس منصوبے کی مخالفت کی جاتی رہی ہے۔
یہ دھمکی ایسے وقت سامنے آئی ہے جب امریکا اور کینیڈا کے تعلقات میں مجموعی طور پر تناؤ پایا جاتا ہے۔ حالیہ ہفتوں میں صدر ٹرمپ نے کینیڈا میں تیار کردہ طیاروں پر بھاری محصولات کی وارننگ بھی دی اور عندیہ دیا کہ اگر اوٹاوا نے بیجنگ کے ساتھ تجارتی تعلقات مزید گہرے کیے تو سخت اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔
کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی نے اس دعوے کو مسترد کر دیا ہے کہ کینیڈا چین کے ساتھ آزاد تجارت کے کسی معاہدے کی کوشش کر رہا ہے، اور واشنگٹن پر زور دیا ہے کہ وہ کینیڈا کی خودمختاری کا احترام کرے۔