روس اور پاکستان کے درمیان سٹیل مل، انسولین، تعلیم، سائنس، اور تجارت میں تعاون: سفیر البرٹ پی خوریف کا خصوصی انٹرویو

Albert P. Khorev Albert P. Khorev

روس اور پاکستان کے درمیان سٹیل مل، انسولین، تعلیم، سائنس، اور تجارت میں تعاون: سفیر البرٹ پی خوریف کا خصوصی انٹرویو

اسلام آباد (صداۓ روس)
پاکستان میں روس کے سفیر البرٹ پی خورَیف نے روسی خبر رساں ادارے تاس کو دیے گئے ایک تفصیلی انٹرویو میں کہا ہے کہ اس وقت پاکستان اور روس کے درمیان رابطوں میں سب سے زیادہ ترجیح علاقائی سلامتی اور بین الاقوامی دہشت گردی کے خلاف مشترکہ جدوجہد کو دی جا رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ دونوں ممالک اقوامِ متحدہ اور شنگھائی تعاون تنظیم جیسے کثیرالطرفہ فورمز میں بھی اپنے مؤقف اور اقدامات کو ہم آہنگ کر رہے ہیں۔ روسی سفیر کے مطابق دونوں ملکوں کے شہروں اور صوبوں کے درمیان تعاون کے امکانات بھی خاصے امید افزا ہیں۔ روس میں ماسکو، جمہوریہ تاتارستان اور پرائمورسکی کرائی جبکہ پاکستان میں پنجاب اور سندھ کے صوبوں نے اس نوعیت کے روابط میں دلچسپی ظاہر کی ہے، جس سے عوامی اور علاقائی سطح پر تعلقات کو مزید فروغ مل سکتا ہے۔

تعلیم، سائنس اور ثقافت کے شعبوں پر بات کرتے ہوئے البرٹ پی خورَیف نے کہا کہ روس ان شعبوں میں تعلقات کو مضبوط بنانے پر خصوصی توجہ دے رہا ہے۔ پاکستان میں روسی زبان کے فروغ کے لیے مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں، جن میں وفاقی منصوبہ ’’روسّی اساتذہ بیرونِ ملک‘‘ بھی شامل ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ مشترکہ سائنسی کانفرنسوں، ثقافتی سرگرمیوں اور کھیلوں کے مقابلوں کے انعقاد میں بھی سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔ معاشی تعاون کے حوالے سے روسی سفیر نے کہا کہ آنے والے برسوں میں باہمی تجارت کے فروغ، متبادل اور قابلِ اعتماد ادائیگی کے نظام کی تشکیل اور بڑے مشترکہ منصوبوں پر عملدرآمد نہایت اہم ہے۔ ان منصوبوں میں پاکستان اسٹیل ملز کی بحالی، روس اور پاکستان کے درمیان ریل رابطوں کا قیام، پن بجلی کے شعبے میں تعاون اور ادویات خصوصاً انسولین کی مشترکہ پیداوار کے لیے جوائنٹ وینچرز کا قیام شامل ہے۔

Advertisement

توانائی کے شعبے میں روسی سفیر نے انکشاف کیا کہ پاکستان تیل کی تلاش اور پیداوار کے میدان میں روس کے ساتھ تعاون میں دلچسپی رکھتا ہے، جبکہ روس پاکستان کی توانائی خودمختاری کو مضبوط بنانے میں مدد کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ ماضی میں سوویت یونین نے انیس سو ساٹھ کی دہائی میں پاکستان میں آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی لمیٹڈ کے قیام میں مدد دی تھی اور کئی تیل و گیس کے ذخائر کی دریافت میں بھی کردار ادا کیا تھا۔

شنگھائی تعاون تنظیم کے حوالے سے البرٹ پی خورَیف نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ اس پلیٹ فارم پر تعمیری تعاون کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے، جہاں علاقائی سلامتی، دہشت گردی اور منظم سرحد پار جرائم کے خلاف مشترکہ کوششیں اولین ترجیح ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ روس، بریکس میں شمولیت کے لیے پاکستان کی دلچسپی کا خیر مقدم کرتا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کے لیے بریکس میں عملی انضمام کی جانب ایک اہم قدم نیو ڈیولپمنٹ بینک میں شمولیت ہو سکتا ہے، جو ترقی پذیر ممالک میں بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کی مالی معاونت کرتا ہے۔

آخر میں روسی سفیر نے کہا کہ دس فروری کو روسی دفترِ خارجہ ’’یومِ سفارتکار‘‘ مناتا ہے۔ اس موقع پر انہوں نے ماسکو اور بیرونِ ملک تعینات اپنے تمام ساتھی سفارتکاروں کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ روس کے مؤقف کو عالمی سطح پر آگے بڑھانے میں مزید کامیابیاں حاصل کریں۔