بسنت پر لاہوریوں نے ایک ارب ساٹھ کروڑ روپے سے زائد کا چکن کھا لیا؟

chicken chicken

بسنت پر لاہوریوں نے ایک ارب ساٹھ کروڑ روپے سے زائد کا چکن کھا لیا؟

لاہور (صداۓ روس)
لاہور میں تین روز تک جاری رہنے والے بسنت فیسٹیول نے نہ صرف شہر کی ثقافتی رونقیں بحال کر دیں بلکہ مقامی معیشت کو بھی غیر معمولی طور پر متحرک کر دیا۔ پتنگ بازی، میلوں، تقریبات اور تفریحی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ خوراک، ٹرانسپورٹ، ہوٹلنگ اور بیوٹی انڈسٹری میں ریکارڈ کاروبار دیکھنے میں آیا۔ آل پاکستان کائٹ فلائنگ ایسوسی ایشن کے مطابق بسنت کے تین دنوں میں لاہور بھر میں مجموعی طور پر بیس ارب روپے سے زائد کی معاشی سرگرمیاں ریکارڈ کی گئیں، جو حالیہ برسوں میں کسی بھی شہری فیسٹیول کے دوران ہونے والی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ قرار دی جا رہی ہیں۔ پولٹری ایسوسی ایشن کے مطابق بسنت کے دوران صرف تین دن میں ایک ارب ساٹھ کروڑ روپے مالیت کا چکن فروخت ہوا، جو ایک غیر معمولی ریکارڈ ہے۔ اس کے علاوہ مٹن اور بیف کی فروخت میں بھی واضح اضافہ ہوا، جبکہ کیٹرنگ، فاسٹ فوڈ اور اسٹریٹ فوڈ کے کاروبار نے بھی غیر معمولی منافع کمایا۔

حکومتی اعداد و شمار کے مطابق بسنت کے تین دنوں کے لیے لاہور میں تمام پبلک ٹرانسپورٹ مفت فراہم کی گئی، جس سے اکیس لاکھ سے زائد افراد نے فائدہ اٹھایا۔ اس اقدام نے شہری نقل و حرکت کو آسان بنایا اور فیسٹیول کی سرگرمیوں میں عوامی شرکت کو مزید بڑھایا۔ لاہور ہوٹلز اینڈ ٹورازم ایسوسی ایشن کے چیئرمین آصف خان کے مطابق شہر میں ہوٹلوں کی صورتحال غیر معمولی رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ تمام ہوٹل کمرے مکمل طور پر بک ہو گئے، یہاں تک کہ ڈرائیور رومز، میٹنگ رومز اور کانفرنس رومز بھی کرائے پر دے دیے گئے۔ ان کے مطابق ایک ہزار روپے والا کمرہ پانچ ہزار روپے میں بھی دستیاب نہیں تھا۔ لاہور میں ایک ہزار سے زائد رجسٹرڈ ہوٹل ہیں جن میں مجموعی طور پر پچاس ہزار کمرے موجود ہیں، اور بسنت کے دوران یہ تمام کمرے بھرے رہے۔ بسنت فیسٹیول کے باعث بیوٹی انڈسٹری، سیلونز اور فیشن سے وابستہ کاروبار کو بھی خاطر خواہ فائدہ پہنچا، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اس تہوار نے لاہور کی معیشت کے تقریباً تمام شعبوں کو براہِ راست یا بالواسطہ طور پر فائدہ پہنچایا۔

Advertisement