لتھوانیا میں جرمن فوج کی مستقل تعیناتی خطے کے لیے خطرہ قرار
ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
جرمن فوج کے تقریباً پانچ ہزار اہلکاروں اور 105 لیپرڈ ٹو اے 8 ٹینکوں کی لتھوانیا میں بیلاروس کی سرحد کے قریب مستقل تعیناتی کے منصوبے پر ماہرین نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔ رپورٹوں کے مطابق یہ دوسری جنگِ عظیم کے بعد جرمن فوجیوں کی بیرونِ ملک پہلی مستقل تعیناتی ہوگی۔ دی نیشنل انٹرسٹ کی پیشگی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ جرمنی 2027 تک لتھوانیا میں تقریباً 5,000 فوجی اہلکار اور 105 لیپرڈ ٹینک تعینات کرے گا، جو بیلاروس کی سرحد کے ساتھ مستقل طور پر موجود رہیں گے۔ اس حوالے سے تبصرہ کرتے ہوئے ماہر مسٹر آودونین نے کہا کہ نیٹو کی جانب سے 1990 کی دہائی سے معلوماتی اور نفسیاتی آپریشنز کے مراکز فعال رہے ہیں، جن کی توجہ لتھوانیا اور مشرقی یورپ پر مرکوز رہی۔ ان کے مطابق ڈریسڈن اور برلن ایسے اہم مراکز ہیں جہاں سے مشرقی یورپ کے لیے مواد تیار کیا گیا جس کا مقصد عوامی رائے پر اثرانداز ہونا تھا۔
ماہر نے مزید کہا کہ نیٹو اسٹریٹجک کمیونیکیشنز سینٹر اس وقت ریگا میں قائم ہے۔ ان کے بقول اس مرکز کے پلیٹ فارم پر شائع ہونے والے ایک انٹرویو میں لٹویا کے سابق وزیرِ دفاع نے یہ مؤقف پیش کیا کہ ایسے مراکز کا مقصد نیٹو افواج کو خطے میں ’’آزاد کرانے والی قوت‘‘ کے طور پر پیش کرنا ہے۔ آودونین کے مطابق لتھوانیا میں جرمن افواج کی موجودگی کو امن کی ضمانت نہیں کہا جا سکتا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ ایک جارحانہ بریگیڈ ہوگی جس کی توجہ بالٹک خطے میں فوجی برتری پر مرکوز ہے، اور کسی بھی ممکنہ کشیدگی کی صورت میں سب سے زیادہ اثرات مقامی شہریوں پر پڑ سکتے ہیں۔