برطانوی آئل اور گیس کمپنی پر کینیا میں 500 اموات کا مقدمہ دائر

London London

ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)

برطانوی آئل اور گیس کمپنی بی پی کے خلاف کینیا میں مقدمہ دائر کیا گیا ہے۔ الزام ہے کہ 40 سال پہلے تیل کی تلاش کے دوران پھینکا گیا زہریلا فضلہ پانی کے ذرائع کو آلودہ کر کے سینکڑوں اموات کا باعث بنا۔ کینیا کی ہائی کورٹ نے 299 متاثرین کی جانب سے دائر کیے گئے کیس کو آگے بڑھنے کی اجازت دے دی ہے۔ مقدمہ 1980 کی دہائی میں اموکو کارپوریشن (جو بعد میں بی پی میں ضم ہو گئی) کے شمالی کینیا کے چالبي صحرا میں کیے گئے کام سے متعلق ہے۔ متاثرین کا الزام ہے کہ ریڈیم آئسوٹوپس، آرسینک، لیڈ اور نائٹریٹس سمیت خطرناک کیمیکلز والا فضلہ بغیر لائننگ والے گڑھوں میں پھینکا گیا یا کھلا چھوڑ دیا گیا۔ اس سے زیرِ زمین پانی آلودہ ہوا، لوگ اور مویشی بیمار پڑے اور 500 سے زائد اموات ہوئیں۔ مقدمے میں کینیا کی سرکاری ایجنسیوں پر بھی الزام لگایا گیا ہے کہ انہوں نے آلودگی کے ثبوت موجود ہونے کے باوجود کوئی کارروائی نہیں کی۔
بی پی نے عدالت کے فیصلے پر اب تک کوئی سرکاری ردعمل نہیں دیا ہے۔ کیس کی سماعت مئی میں دوبارہ ہوگی۔