جنوبی افریقہ میں گینڈوں کے غیر قانونی شکار میں 16 فیصد کمی ریکارڈ

northern white rhino extinct northern white rhino extinct

جنوبی افریقہ میں گینڈوں کے غیر قانونی شکار میں 16 فیصد کمی ریکارڈ

ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
جنوبی افریقہ میں سال 2025 کے دوران گینڈوں کے غیر قانونی شکار میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جسے حکام نے انسدادِ شکار اور اسمگلنگ کے خلاف سخت اقدامات کا نتیجہ قرار دیا ہے۔ وزیرِ جنگلات، ماہی گیری اور ماحولیات ولی آوکیمپ کے مطابق 2025 میں ملک بھر میں 352 گینڈے غیر قانونی شکار کا نشانہ بنے، جو 2024 کے مقابلے میں 16 فیصد کم ہیں۔ وزارت کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ جنوری سے دسمبر 2025 تک 352 گینڈوں کے شکار کے واقعات سامنے آئے، جبکہ 2024 میں یہ تعداد 420 تھی۔ وزیر آوکیمپ نے اس کمی کا کریڈٹ قانون نافذ کرنے والے اداروں، تحفظِ ماحولیات کے حکام اور نجی شعبے کے درمیان بہتر ہم آہنگی کو دیا۔

اگرچہ قومی سطح پر بہتری دیکھی گئی، تاہم صوبہ ایمپومالانگا سب سے زیادہ متاثر رہا جہاں 2025 میں 178 گینڈے ہلاک ہوئے، جو 2024 میں 92 کے مقابلے میں تقریباً دوگنا ہیں۔ زیادہ تر واقعات کروگر نیشنل پارک میں پیش آئے جہاں گزشتہ برس 175 گینڈے غیر قانونی شکار کا نشانہ بنے۔ اس کے برعکس کوازولو-نٹال میں صورتحال میں واضح بہتری آئی۔ ہلوہلووے-ایمفولوزی پارک میں شکار کے واقعات 2024 کے 198 سے کم ہو کر 2025 میں 63 رہ گئے۔ ایزیمویلو کے زیڈ این وائلڈ لائف نے اس بہتری کو نجی گینڈا مالکان اور تحفظی شراکت داروں کے ساتھ قریبی تعاون اور انٹیگریٹڈ وائلڈ لائف زونز پروگرام سے جوڑا۔ حکام کے مطابق جدید ٹیکنالوجی، سخت نگرانی اور مؤثر عدالتی کارروائیوں نے بھی غیر قانونی شکار میں کمی میں اہم کردار ادا کیا۔ ایزیمویلو نے بتایا کہ 2025 میں اصل کامیابیاں جدید کیمروں، سینسرز اور ابتدائی انتباہی نظام کی تعیناتی سے حاصل ہوئیں، جبکہ انٹیگریٹی پلان کے تحت پارک کے قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کے پولی گراف ٹیسٹ بھی کیے گئے۔

Advertisement

قومی سطح پر وائلڈ لائف اسمگلنگ کے خلاف مربوط حکمتِ عملی کے تحت عدالتوں کی جانب سے سخت سزائیں بھی دی گئیں۔ نمایاں مقدمات میں زی ایم موئیامبو المعروف تھامس چاؤکے کو اپریل 2025 میں گینڈوں کے غیر قانونی شکار اور منظم جرائم سے متعلق 19 الزامات پر 20 سال قید کی سزا سنائی گئی۔ وزیر ولی آوکیمپ نے نجی شعبے اور تحفظی تنظیموں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ گینڈوں کے غیر قانونی شکار میں کمی کے رجحان کو برقرار رکھنے کے لیے حکومت، نجی شعبے اور غیر سرکاری تنظیموں کے درمیان مربوط تعاون ناگزیر ہے۔ انہوں نے جنوبی افریقہ کی کوششوں کو عالمی سطح پر ملنے والی پذیرائی کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ آئندہ بھی انٹیلی جنس پر مبنی اور شراکت داری کے ذریعے تحفظ کا عمل جاری رکھا جائے گا۔