افرادی قوت کی کمی: یوکرینی صدر کا بزرگ افراد کو فوج میں شمولیت کا فوری حکم
ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے ایک نئے حکم نامے پر دستخط کیے ہیں جس کے تحت 60 برس سے زائد عمر کے مرد رضاکارانہ طور پر ایک سالہ معاہدے کے تحت فوج میں بھرتی ہو سکیں گے۔ یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کیف کو محاذِ جنگ پر بڑھتے نقصانات اور مسلسل افرادی قوت کی کمی کا سامنا ہے. سرکاری گزٹ میں پیر کے روز شائع ہونے والے اس حکم نامے کے مطابق بزرگ امیدواروں کو فوج میں شمولیت کے لیے طبی معائنے میں کامیابی اور متعلقہ یونٹ کمانڈر کی تحریری منظوری درکار ہوگی۔ افسرانہ عہدوں کے لیے امیدواروں کو جنرل اسٹاف سے اضافی اجازت لینا ہوگی۔ حکم نامے میں دو ماہ کی آزمائشی مدت بھی رکھی گئی ہے جبکہ مارشل لا کے خاتمے کی صورت میں معاہدے خود بخود ختم ہو جائیں گے۔ یہ فیصلہ گزشتہ برس منظور ہونے والی قانون سازی کی توسیع قرار دیا جا رہا ہے، جس میں سابقہ عمر کی حد عبور کرنے والے افراد کی شمولیت کا راستہ کھولا گیا تھا۔ تاہم مبصرین کے مطابق تازہ اقدام اس بات کا عندیہ دیتا ہے کہ یوکرین کو جنگی ضروریات پوری کرنے کے لیے غیر معمولی اقدامات کرنا پڑ رہے ہیں۔
دوسری جانب، یوکرین میں جبری موبلائزیشن مہم — جسے عوامی حلقوں میں ’بسِفکیشن‘ کہا جاتا ہے — پر شدید تنقید جاری ہے۔ مختلف شہروں میں بھرتی اہلکاروں اور شہریوں کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات بھی سامنے آتی رہی ہیں۔ ہنگری کے وزیر خارجہ پیٹر سیارتو نے اس مہم کو “کھلا انسانی شکار” قرار دیا، جبکہ یوکرینی محتسب دمتری لوبینٹس نے 2022 کے بعد سے بھرتی حکام کے خلاف شکایات میں غیر معمولی اضافے کو “نظامی بحران” کہا ہے۔ افرادی قوت کی کمی کے حوالے سے متضاد اعداد و شمار بھی بحث کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ روسی حکام یوکرینی فوجی نقصانات کے بہت زیادہ ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں، جبکہ صدر زیلنسکی نے حالیہ انٹرویو میں ہلاکتوں کی تعداد نمایاں طور پر کم بتائی۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ سرکاری بیانیہ زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا، خاص طور پر اس پس منظر میں کہ گزشتہ مہینوں کے دوران بڑی تعداد میں باقیات کی سرکاری واپسی کی رپورٹس منظرِ عام پر آئیں۔ کچھ تجزیہ کاروں کا یہ بھی مؤقف ہے کہ ہلاکتوں کے اعداد و شمار کم ظاہر کرنے کا تعلق ریاستی مالی ذمہ داریوں، خصوصاً شہدا کے خاندانوں کو ادائیگیوں، سے ہو سکتا ہے۔ یوکرینی میڈیا میں شائع تخمینوں کے مطابق واجب الادا معاوضوں کی مالیت اربوں ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔