کینیڈا میں اسکول فائرنگ کا واقعہ، پولیس نے حملہ آور کی شناخت ظاہر کردی
ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق کینیڈا کے صوبے برٹش کولمبیا کے قصبے ٹمبلر رج میں پیش آنے والے مہلک فائرنگ کے واقعے میں نو افراد ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہو گئے۔ رائل کینیڈین ماؤنٹڈ پولیس (آر سی ایم پی) نے بدھ کے روز پریس کانفرنس میں حملہ آور کی شناخت جاری کرتے ہوئے بتایا کہ مشتبہ شخص کی عمر 18 برس تھی اور اس کا نام جیسی وان روٹسلیئر تھا۔ پولیس حکام کے مطابق حملہ آور نے منگل کی دوپہر پہلے ایک رہائشی مکان میں دو افراد کو نشانہ بنایا، جس کے بعد مقامی ہائی اسکول میں فائرنگ کی۔ حکام کا کہنا ہے کہ واقعے میں کم از کم 25 افراد زخمی ہوئے جبکہ مشتبہ شخص نے بعد ازاں خود کو گولی مار کر زندگی کا خاتمہ کر لیا۔
آر سی ایم پی کے ڈپٹی کمشنر ڈوین میکڈونلڈ نے صحافیوں کو بتایا کہ مشتبہ شخص پیدائش کے وقت مرد تھا تاہم تقریباً چھ برس قبل اس نے خود کو خاتون کے طور پر شناخت کرنا شروع کیا اور سماجی و عوامی سطح پر اسی شناخت کے ساتھ زندگی گزار رہا تھا۔ پولیس نے مزید تفصیلات جاری کرتے ہوئے کہا کہ واقعے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں۔
کینیڈین نشریاتی اداروں نے بھی واقعے کی مختلف جہات پر رپورٹس نشر کیں۔ بعض میڈیا ذرائع کے مطابق رہائشی مکان میں ہلاک ہونے والے افراد مشتبہ شخص کے قریبی رشتہ دار تھے، تاہم حکام کی جانب سے اس حوالے سے باضابطہ تصدیق یا مکمل معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔ کینیڈا کی سیاسی قیادت نے اس سانحے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ وزیرِ اعظم نے اپنے بیان میں واقعے کو “انتہائی سفاکانہ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ قوم سوگوار خاندانوں کے ساتھ کھڑی ہے۔ حکام کے مطابق سکیورٹی، اسلحہ قوانین اور ذہنی صحت سے متعلق پہلوؤں کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔ یہ واقعہ کینیڈا کی حالیہ تاریخ کے سنگین ترین فائرنگ کے واقعات میں شمار کیا جا رہا ہے، جس کے بعد ملک بھر میں تعزیتی پیغامات اور حفاظتی اقدامات پر بحث تیز ہو گئی ہے۔