امریکہ دوسرا ایئرکرافٹ کیریئر ایران کی طرف بھیجنے کیلئے تیار
ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) نے ایک دوسرے ایئرکرافٹ کیریئر اسٹرائیک گروپ کو مشرق وسطیٰ میں ممکنہ تعیناتی کے لیے تیار رہنے کی ہدایت کی ہے۔ یہ اقدام ایران پر فوجی دباؤ بڑھانے کا حصہ ہے جبکہ اس کے جوہری پروگرام پر مذاکرات جاری ہیں۔ وال سٹریٹ جرنل کو بدھ کو تین امریکی عہدیداروں نے بتایا کہ یہ تیاریاں ایران پر ممکنہ حملے کے لیے کنٹینجنسی پلاننگ کا حصہ ہیں اگر سفارتی کوششیں ناکام ہو جائیں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ابھی تک کوئی رسمی حکم جاری نہیں کیا ہے اور عہدیداروں نے خبردار کیا کہ منصوبے اب بھی تبدیل ہو سکتے ہیں۔
ایک عہدیدار کے مطابق تعیناتی کا حکم “چند گھنٹوں میں” آ سکتا ہے۔ ایک اور نے بتایا کہ پینٹاگون تقریباً دو ہفتوں میں ایک کیریئر کو تعینات کرنے کے لیے تیار کر رہا ہے، جو غالباً امریکی مشرقی ساحل سے روانہ ہوگا۔ فی الحال یو ایس ایس جارج ایچ ڈبلیو بش ورجینیا کے ساحل پر تربیتی مشقیں مکمل کر رہا ہے اور اگر فوری حکم ملا تو ان مشقوں کو تیز کیا جا سکتا ہے۔
اگر منظوری مل جائے تو یہ دوسرا کیریئر یو ایس ایس ابراہم لنکن کے ساتھ شامل ہوگا جو پہلے سے ہی علاقے میں موجود ہے۔ یہ امریکی فوجی بلڈ اپ کا حصہ ہے جس میں اضافی جنگی بحری جہاز، فضائی دفاعی نظام اور لڑاکا طیاروں کے اسکواڈرنز شامل ہیں۔
منگل کو صدر ٹرمپ نے عوامی طور پر تسلیم کیا تھا کہ وہ علاقے میں ایک اور کیریئر بھیجنے پر غور کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ “ہمارا ایک بحری بیڑا وہاں جا رہا ہے اور ایک اور بھی جا سکتا ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو واشنگٹن کو “بہت سخت قدم” اٹھانا پڑے گا۔
بدھ کو وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر نے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو سے بند دروازوں کے پیچھے ملاقات کی جس میں ایران پر بات ہوئی۔ ملاقات کے بعد ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ “میں نے اصرار کیا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری رکھے جائیں تاکہ دیکھا جا سکے کہ کیا کوئی معاہدہ ممکن ہے۔ اگر معاہدہ ہو سکتا ہے تو یہ ترجیح ہوگی۔ اگر نہیں ہو سکتا تو نتیجہ جو بھی ہو گا دیکھیں گے۔”
امریکہ اور ایران کے درمیان بالواسطہ مذاکرات کی دوسری نشست کی تفصیلات ابھی تک طے نہیں ہوئیں۔ دونوں ممالک کے عہدیدار گزشتہ ہفتے عمان میں ملے تھے جو گزشتہ سال اسرائیلی-امریکی حملوں کے بعد پہلی مذاکراتی نشست تھی۔
ایران نے بارہا اصرار کیا ہے کہ وہ یورینیم افزودگی کے حق سے مکمل طور پر دستبردار نہیں ہوگا اور اپنے بیلسٹک میزائل پروگرام پر بات چیت سے انکار کر چکا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے خبردار کیا ہے کہ امریکہ کی جانب سے کوئی نیا حملہ ہوا تو مشرق وسطیٰ بھر میں امریکی اڈوں پر جوابی کارروائی کی جائے گی۔