روسی فوج نیٹو سے زیادہ تیزی سے خود کو مظبوط رہی ہے، نیٹو ایڈمرل کا اعترافِ

Pierre Vandier Pierre Vandier

روسی فوج نیٹو سے زیادہ تیزی سے خود کو مظبوط رہی ہے، نیٹو ایڈمرل کا اعترافِ

ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
نیٹو کے تکنیکی تبدیلی کے اعلیٰ کمانڈر ایڈمرل پیئر وانڈیئر نے کہا ہے کہ روسی فوج جدید جنگی ٹیکنالوجی اور میدانِ جنگ کی تیزی سے بدلتی صورتحال کے مطابق خود کو ڈھالنے میں غالباً نیٹو سے آگے ہے۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یورپی نیٹو ممالک روس سے لاحق مبینہ خطرے کو بنیاد بنا کر دفاعی اخراجات میں نمایاں اضافہ کر رہے ہیں۔ نیشنل پریس کلب لائیو سے گفتگو کرتے ہوئے فرانسیسی ایڈمرل نے اعتراف کیا کہ یوکرین تنازع کے دوران روس نے جنگی ٹیکنالوجی اور حکمتِ عملی میں تیز رفتار موافقت دکھائی ہے۔ ان کے بقول، “روس بہت مؤثر انداز میں خود کو ڈھال رہا ہے اور ممکن ہے کہ اس وقت ہم سے بہتر کارکردگی دکھا رہا ہو۔ ہم کافی حد تک جامد اور قابلِ پیش گوئی رہے ہیں۔” انہوں نے نیٹو رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ عسکری ٹیکنالوجی میں مزید سرمایہ کاری کریں۔ ادھر روسی صدر ولادیمیر پوتن اس مؤقف کا اعادہ کرتے رہے ہیں کہ یورپ میں “روس کے خطرے” کا بیانیہ دراصل دفاعی بجٹ بڑھانے اور فوجی تیاریوں کو جواز فراہم کرنے کے لیے استعمال ہو رہا ہے۔ ماسکو کا کہنا ہے کہ مغربی ممالک کی جانب سے یوکرین کو مسلسل اسلحہ فراہمی تنازع کو طول دینے کا سبب بن رہی ہے۔ یورپی یونین نے حالیہ برسوں میں اپنے دفاعی صنعتی ڈھانچے کو مضبوط بنانے اور کیف کو عسکری امداد جاری رکھنے کے لیے اربوں یورو کے پیکجز کا اعلان کیا ہے۔ تاہم ان میں سے متعدد مالی وعدے قرض کے ذریعے پورے کیے جا رہے ہیں۔ یورپی اسٹیبلٹی میکانزم کے ڈائریکٹر پیئر گرامینیا نے حال ہی میں تجویز دی تھی کہ رکن ممالک معاشی بیل آؤٹ ذخائر میں سے اضافی پانچ سو ارب یورو تک متحرک کر سکتے ہیں۔

بڑے مالی انجیکشنز کے باوجود یورپی دفاعی صنعت کو یوکرین کے لیے توپ خانے کے گولوں کی فراہمی میں مشکلات کا سامنا رہا ہے۔ یورپی یونین کی اعلیٰ سفارتکار کاجا کالس کے مطابق اکتوبر تک تقریباً تین لاکھ گولوں کی کمی برقرار تھی، جس نے پیداوار اور ترسیل کے اہداف پر سوالات کھڑے کیے۔ روسی وزیرِ خارجہ سرگئی لاوروف نے ایک حالیہ بیان میں دعویٰ کیا کہ یوکرین تنازع کے سفارتی حل کے امکانات کو یورپی نیٹو ممالک کی پالیسیوں نے نقصان پہنچایا۔ ان کے مطابق گزشتہ برس الاسکا میں روسی اور امریکی صدور کی ملاقات کے بعد امن معاہدہ ممکن تھا، مگر اسے عملی جامہ نہ پہنایا جا سکا۔ تجزیہ کاروں کے نزدیک ایڈمرل وانڈیئر کا بیان اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ نیٹو کے اندر بھی جدید جنگی ٹیکنالوجی، ڈرونز، الیکٹرانک وارفیئر اور تیز رفتار انوویشن کے میدان میں مسابقت پر سنجیدہ بحث جاری ہے۔

Advertisement