اٹلی میں تارکینِ وطن کی کشتیوں کو روکنے کے لیے بحری ناکہ بندی کی تجویز منظور

Italian Prime Minister Giorgia Meloni Italian Prime Minister Giorgia Meloni

اٹلی میں تارکینِ وطن کی کشتیوں کو روکنے کے لیے بحری ناکہ بندی کی تجویز منظور

ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)
اٹلی کی وزیرِاعظم جورجیا میلونی کی کابینہ نے بدھ کے روز ایک مسودہ قانون کی منظوری دے دی ہے جس کے تحت غیر قانونی تارکینِ وطن کی کشتیوں کو ملک کی علاقائی پانیوں میں داخل ہونے سے روکنے کے لیے بحری ناکہ بندی کی اجازت دی جائے گی۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اٹلی یورپی یونین میں غیر قانونی ہجرت کے خلاف سخت اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے۔ مجوزہ بل، جسے پارلیمان کے دونوں ایوانوں سے منظوری درکار ہوگی، حکام کو “غیر معمولی دباؤ” کی صورت میں جہازوں کی آمدورفت پر 30 دن تک پابندی عائد کرنے کا اختیار دیتا ہے، جبکہ بعض مسودات میں یہ مدت چھ ماہ تک بڑھانے کی شق بھی شامل ہے۔ قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں پر 50 ہزار یورو تک جرمانہ اور بار بار خلاف ورزی کی صورت میں کشتی ضبط کیے جانے کی سزا تجویز کی گئی ہے۔ قانون سازی میں سرحدی نگرانی مزید سخت بنانے، ایسے جرائم کی فہرست وسیع کرنے جن کی بنیاد پر غیر ملکی شہریوں کو ملک بدر کیا جا سکے، اور انسانی اسمگلنگ میں ملوث عناصر کے لیے قید کی سخت سزاؤں کی تجاویز بھی شامل ہیں۔

مسودہ قانون میں یہ شق بھی رکھی گئی ہے کہ جن کشتیوں کو داخلے سے روکا جائے، ان پر سوار تارکینِ وطن کو اُن ممالک منتقل کیا جائے جن کے ساتھ روم کے حراستی یا واپسی کے معاہدے موجود ہیں۔ اس اقدام کو میلونی حکومت کے اُس منصوبے سے جوڑا جا رہا ہے جس کے تحت پناہ گزینوں کی درخواستوں کی پراسیسنگ البانیہ منتقل کرنے کی کوشش کی گئی تھی، تاہم یہ منصوبہ عدالتی فیصلوں کے باعث تعطل کا شکار رہا۔ 2022 میں انتخابی مہم کے دوران غیر قانونی سمندری آمد کو روکنے کے وعدے پر اقتدار میں آنے والی میلونی حکومت نے ہجرت سے متعلق پالیسیوں کو بتدریج سخت کیا ہے۔ اٹلی بدستور بحیرۂ روم کے راستے یورپ میں داخل ہونے والے تارکینِ وطن کے لیے ایک اہم داخلی دروازہ سمجھا جاتا ہے۔ اطالوی وزارتِ داخلہ کے اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں ماہانہ اوسطاً تقریباً 6 ہزار سمندری آمد ریکارڈ کی گئی، جو یونان اور اسپین جیسے دیگر داخلی مقامات سے نمایاں طور پر زیادہ ہے۔ ملک کے مختلف شہروں میں تارکینِ وطن سے منسوب سنگین جرائم کے واقعات نے عوامی سطح پر تشویش اور سخت سرحدی کنٹرول کے مطالبات میں اضافہ کیا ہے۔ یورپی یونین کے دیگر ممالک میں بھی حالیہ برسوں کے دوران ہجرت مخالف جذبات میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ امریکہ کی جانب سے بھی یورپ کی ہجرت پالیسیوں پر تنقید سامنے آتی رہی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دسمبر میں بیان دیا تھا کہ یورپ “تباہ کن” امیگریشن پالیسیوں کے باعث خود کو نقصان پہنچا رہا ہے، جبکہ قومی سلامتی حکمتِ عملی میں سماجی طور پر خلل ڈالنے والی ہجرت پر خدشات ظاہر کیے گئے۔

Advertisement