جنوبی افریقہ میں گینگ تشدد اور غیر قانونی کان کنی کے خلاف فوج کی تعینات
ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)
جنوبی افریقہ کے صدر Cyril Ramaphosa نے گینگ تشدد اور غیر قانونی کان کنی کے بڑھتے ہوئے واقعات کے تدارک کے لیے نیشنل ڈیفنس فورس (SANDF) کو ویسٹرن کیپ اور گاؤٹنگ صوبوں میں تعینات کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ اعلان انہوں نے 2026 کے اسٹیٹ آف دی نیشن ایڈریس (SONA) کے دوران کیا، جہاں انہوں نے منظم جرائم کو ملک کی جمہوریت کے لیے فوری خطرہ قرار دیا۔ صدر رامافوسا نے کہا کہ حکومت اس سال منظم جرائم اور بدعنوانی کے خلاف جنگ کو جدید ٹیکنالوجی، انٹیلی جنس اور مربوط قانون نافذ کرنے والے نظام کے ذریعے تیز کرے گی۔ ان کے مطابق قومی سطح پر انٹیلی جنس کو یکجا کیا جائے گا، ترجیحی مجرمانہ نیٹ ورکس کی نشاندہی کی جائے گی اور مخصوص کثیر الشعبہ ٹیمیں تشکیل دی جائیں گی تاکہ جرائم پیشہ گروہوں کا خاتمہ ممکن بنایا جا سکے۔ انہوں نے واضح کیا کہ SANDF پولیس کی معاونت کرے گی، جبکہ وزیرِ پولیس اور دفاعی حکام کو ہدایت دی گئی ہے کہ آئندہ چند روز میں ایک تکنیکی منصوبہ تیار کریں جس کے تحت سکیورٹی فورسز کی تعیناتی کے مقامات اور حکمتِ عملی طے کی جائے گی۔ پارلیمان کو اس تعیناتی اور اس سے متعلق اخراجات سے آگاہ کیا جائے گا۔
صدر نے اسلحہ سے متعلق جرائم کی روک تھام کے لیے قوانین اور لائسنسنگ نظام کو مزید مؤثر بنانے اور موجودہ گن لاز کے سخت نفاذ کا بھی اعلان کیا۔ انہوں نے بتایا کہ 5,500 نئے پولیس اہلکار بھرتی کیے جائیں گے، جو پہلے سے اعلان کردہ 20 ہزار اہلکاروں کے علاوہ ہوں گے۔ رامافوسا نے غیر قانونی اور جعلی اشیاء کی معیشت پر ضرب لگانے کے لیے “نیشنل الِسِٹ اکانومی ڈسروپشن پروگرام” کے قیام کا اعلان بھی کیا، جس میں ڈیٹا اینالیٹکس اور مصنوعی ذہانت کا استعمال کیا جائے گا۔ اس پروگرام کے تحت تمباکو، ایندھن، الکحل اور دیگر جعلی مصنوعات کے شعبوں پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔ صدر نے کہا کہ Madlanga Commission اور پارلیمانی کمیٹیوں کی رپورٹس نے پولیس اور میٹرو محکموں میں بدعنوانی کو بے نقاب کیا ہے، جس پر فوری اور سخت کارروائی کی جائے گی۔ اس ضمن میں اعلیٰ پولیس افسران کی دوبارہ جانچ پڑتال اور لائف اسٹائل آڈٹس بھی کیے جائیں گے۔ معاشی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے صدر رامافوسا نے دعویٰ کیا کہ ملک کی معیشت میں بہتری آ رہی ہے، جی ڈی پی میں مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے اور لوڈشیڈنگ کا خاتمہ کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے بندرگاہوں اور فریٹ ریل نیٹ ورک کی کارکردگی میں بہتری کو بھی نمایاں کیا۔ تاہم صدر نے اعتراف کیا کہ ملک کو اب بھی بے روزگاری، جرائم اور بدعنوانی جیسے چیلنجز کا سامنا ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ آئین کی رہنمائی میں ہر شہری کو بہتر زندگی کے مساوی مواقع فراہم کیے جائیں گے۔