سابق عالمی کرکٹرز کی پاکستان سے عمران خان کے ساتھ بہتر سلوک کی اپیل
ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
دنیا بھر کے ایک درجن سے زائد ریٹائرڈ کرکٹرز نے پاکستان کی حکومت سے سابق وزیر اعظم عمران خان کے ساتھ زیادہ “انسانی اور باوقار” سلوک کرنے کی اپیل کی ہے۔ یہ اپیل ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب رپورٹس میں ان کی صحت، بالخصوص بینائی، کے حوالے سے تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ خط میں، جس پر بھارت، برطانیہ، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور ویسٹ انڈیز کے سابق کھلاڑیوں کے دستخط ہیں، کہا گیا کہ حراست کے دوران عمران خان کی صحت سے متعلق حالیہ اطلاعات، خصوصاً بینائی میں مبینہ خرابی، باعثِ فکر ہیں۔ کرکٹرز نے لکھا کہ کھیل کی دنیا سے وابستہ افراد ہونے کے ناطے وہ فیئر پلے، عزت اور احترام جیسی اقدار کو اہم سمجھتے ہیں، اس لیے عمران خان جیسی شخصیت کو وقار اور بنیادی انسانی حقوق کے مطابق سہولیات ملنی چاہئیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق عمران خان اگست 2023 سے قید میں ہیں۔ ان کی بہن نورین نیازی نے ایک انٹرویو میں دعویٰ کیا کہ حالیہ دنوں میں اہلِ خانہ اور ذاتی معالجین کو ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی۔ دوسری جانب سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایک میڈیکل ٹیم کو عمران خان کا معائنہ کرنے کا حکم دیا اور عدالت کے مقرر کردہ وکیل کی رپورٹ کے بعد ان کے بیٹوں سے فون پر رابطے کی اجازت بھی دی۔
عمران خان کے وکیل سلمان صفدر کی جانب سے عدالت میں جمع کرائی گئی رپورٹ میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ شکایات کو نظرانداز کیے جانے کے باعث ان کی دائیں آنکھ کی بینائی مبینہ طور پر 15 فیصد رہ گئی ہے۔ آسٹریلیا کے سابق کپتان گریگ چیپل کی جانب سے تیار کردہ اس درخواست پر بھارت کے سابق کپتان سنیل گواسکر اور کپل دیو سمیت متعدد نامور کھلاڑیوں نے دستخط کیے۔ آسٹریلوی اشاعتی ادارے دی ایج کے مطابق یہ خط منگل کی دوپہر وزیر اعظم شہباز شریف کو پہنچایا گیا۔ خط میں مطالبہ کیا گیا کہ عمران خان کے منتخب کردہ مستند ڈاکٹروں کو علاج کی اجازت دی جائے اور قید کی ایسی شرائط فراہم کی جائیں جو بین الاقوامی انسانی معیار کے مطابق ہوں، جن میں قریبی اہلِ خانہ کی باقاعدہ ملاقاتیں بھی شامل ہوں۔