بنگلہ دیش کے نئے وزیراعظم کا اقلیتوں کے تحفظ کا عزم
ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
بنگلہ دیش کے نئے وزیراعظم طارق رحمان نے ملک میں اقلیتوں کے تحفظ کو اپنی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل کرتے ہوئے قانون کی حکمرانی مضبوط بنانے کا اعلان کیا ہے۔ بدھ کے روز اپنے پہلے ٹیلی وژن خطاب میں انہوں نے کہا کہ حکومت ہر شہری کیلئے بنگلہ دیش کو ایک محفوظ ریاست بنانے کیلئے اقدامات کرے گی۔ وزیراعظم نے اپنے خطاب میں کہا کہ مسلمان، ہندو، بدھ، عیسائی — مذہب، رائے، جماعت یا نسل سے قطع نظر — سب اس ملک کے برابر کے شہری ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ چاہے کوئی پہاڑی علاقوں میں رہتا ہو یا میدانی خطوں میں، ریاست سب کی مشترکہ ملکیت ہے اور حکومت سب کے مساوی حقوق کی ضامن ہوگی۔ یاد رہے کہ بنگلہ دیش نیشنل پارٹی (BNP) نے 12 فروری کو ہونے والے عام انتخابات میں دو تہائی اکثریت حاصل کی۔ یہ انتخابات 2024 کی پرتشدد عوامی تحریک کے بعد منعقد ہوئے، جس کے نتیجے میں سابق وزیراعظم شیخ حسینہ اقتدار سے الگ ہوئیں۔ عبوری حکومت، جس کی قیادت چیف ایڈوائزر محمد یونس کر رہے تھے، کو اقلیتوں پر حملوں کے تناظر میں تنقید کا سامنا رہا۔
خطاب میں طارق رحمان نے واضح کیا کہ ووٹ دینے یا نہ دینے سے قطع نظر تمام شہری حکومت پر یکساں حق رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بطور بنگلہ دیشی ہر فرد کو ریاست میں برابر کے حقوق حاصل ہیں اور حکومت اس اصول پر کاربند رہے گی۔ خبر رساں اداروں کے مطابق انسانی حقوق کی تنظیم منابدھیکار شونسکریتی فاؤنڈیشن (MSF) نے جنوری 2026 کے دوران ملک میں ہجوم کے تشدد اور مار پیٹ کے متعدد واقعات رپورٹ کیے۔ اسی طرح بنگلہ دیش ہندو بدھسٹ کرسچن یونٹی کونسل نے 2025 میں فرقہ وارانہ حملوں کے سینکڑوں واقعات کی نشاندہی کی۔ گزشتہ ماہ بھارت نے احتیاطی تدابیر کے طور پر بنگلہ دیش میں تعینات سفارتکاروں کے اہلِ خانہ کو واپس بلا لیا تھا جبکہ سفارتی مشنز کی سکیورٹی بھی سخت کی گئی۔ اس سے قبل نئی دہلی نے ڈھاکا میں بدامنی کے تناظر میں اقلیتوں کے تحفظ پر زور دیا تھا۔