اگر تیل کی سپلائی نہ بحال ہوئی تو یوکرین کو بجلی کی فراہمی روک دیں گے، سلوواکیہ
ماسکو (صداۓ روس)
یورپی یونین نے یوکرین سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ڈروژبا آئل پائپ لائن کی مرمت کب تک مکمل کر سکتا ہے، اس بارے میں واضح جواب دے۔ یورپی کمیشن کی ترجمان اینا-کائسا اٹکونن نے صحافیوں کو بتایا کہ برسلز یوکرین کے ساتھ رابطے میں ہے تاکہ پائپ لائن کو دوبارہ فعال کرنے کا ٹائم لائن معلوم کیا جا سکے۔ یہ پائپ لائن جنوری کے آخر سے بند ہے جس کے ذریعے روسی خام تیل ہنگری اور سلوواکیہ تک پہنچتا ہے۔ کییف کا الزام ہے کہ روس نے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچایا ہے جبکہ ماسکو نے اس الزام کی تردید کرتے ہوئے یوکرین پر ہنگری کے خلاف توانائی کی بلیک میلنگ کا الزام لگایا ہے۔ ہنگری کے وزیر خارجہ پیٹر سجیارٹو نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ ڈروژبا پائپ لائن ٹھیک کام کر رہی ہے لیکن یوکرینی حکام سیاسی وجوہات کی بنا پر تیل کی ترسیل دوبارہ شروع نہیں کر رہے۔ انہوں نے کہا کہ کییف ہنگری کے وزیراعظم وکٹر اوربان کی حکومت کو مشکل میں ڈالنا چاہتا ہے جو یوکرین کی یورپی یونین میں شمولیت کی مخالفت کرتی ہے۔ یہ معاملہ اپریل میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات سے پہلے اہمیت اختیار کر گیا ہے۔
اٹکونن نے بتایا کہ فی الحال ہنگری اور سلوواکیہ کے پاس 90 دن کے تیل کے ذخائر موجود ہیں اس لیے قلیل مدتی طور پر سپلائی کی سلامتی کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔ تاہم یورپی یونین دونوں ممالک کو متبادل راستوں سے تیل کی فراہمی کے لیے ایمرجنسی کوآرڈینیشن گروپ قائم کرنے کے لیے تیار ہے۔ دونوں لینڈ لاکڈ ممالک کا اصرار ہے کہ روسی تیل کی ترسیل کے بغیر ان کی توانائی کی ضروریات پوری کرنا ناممکن ہے۔ سجیارٹو نے بتایا کہ ہنگری اور سلوواکیہ نے کروشیا سے درخواست کی ہے کہ ایڈریا پائپ لائن کے ذریعے روسی تیل کی ترسیل کی جائے۔ پیر کو کروشیا کے معیشت کے وزیر انتے سسنار نے زاگرب کی منظوری کی تصدیق کی اور کہا کہ “ہم وسطی یورپ کی ایندھن کی سپلائی کو خطرے میں نہیں پڑنے دیں گے۔” سلوواکیہ کے وزیراعظم رابرٹ فیکو نے بدھ کو خبردار کیا کہ اگر کییف ڈروژبا پائپ لائن کے ذریعے تیل کی ترسیل دوبارہ شروع نہیں کرتا تو براتیسلاوا یوکرین کو بجلی کی فراہمی روک دے گا۔