سرخ گوشت کا استعمال نقصان دہ ہے یا نہیں؟ طبی تحقیق میں متضاد آراء

Meat Meat

سرخ گوشت کا استعمال نقصان دہ ہے یا نہیں؟ طبی تحقیق میں متضاد آراء

ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ غیر پروسیسڈ سرخ گوشت محفوظ ہو سکتا ہے، لیکن ڈبلیو ایچ او اور کینسر سوسائٹی کم استعمال کی تجویز پر قائم

ایک نئی تحقیق میں کم فائدہ دکھایا، ماہرین کا مطالبہ: فیصلہ لوگوں پر چھوڑ دیا جائے. سرخ گوشت (جیسے گائے، بھینس، بکری اور بھیڑ کا گوشت) کے استعمال کے بارے میں طبی ماہرین کی آراء تقسیم ہیں۔ کچھ ماہرین اسے کینسر اور دل کے امراض سے بچنے کے لیے کم استعمال کرنے کی تجویز دیتے ہیں جبکہ ایک نئی تحقیق میں کہا گیا ہے کہ بالغ افراد بلا خوف و خطر غیر پروسیسڈ سرخ گوشت کھا سکتے ہیں۔
سات ممالک کے طبی ماہرین کی تحقیق، جو ایک معتبر طبی جریدے میں شائع ہوئی، کے مطابق غیر پروسیسڈ سرخ گوشت کا استعمال خطرناک نہیں ہے بشرطیکہ اسے کسی پروسیسنگ (جیسے ساسیج، بیکن یا نمکین بنانے) سے نہ گزارا جائے۔ محققین کا کہنا ہے کہ پروسیسڈ گوشت کے استعمال میں بھی زیادہ حرج نہیں ہے۔ کینیڈا کی ڈلہوزی یونیورسٹی کے پروفیسر براڈلے جانسٹن نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ سرخ گوشت کے کم استعمال سے کینسر اور دل کے امراض سے بچاؤ کے بہت کم شواہد ملتے ہیں۔ ان کے بقول “ہو سکتا ہے کہ فرق پڑتا ہو اور شاید نہ بھی پڑتا ہو”۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں یہ فیصلہ عوام پر چھوڑ دینا چاہیے۔ ہمارا کام صرف تحقیق کو سامنے لانا ہے تاکہ لوگ اپنی خوراک کے بارے میں باشعور ہو جائیں اور عالمی اداروں کی ہدایات پر اندھا بھروسہ نہ کریں۔ پروفیسر جانسٹن نے کہا کہ وہ پرانے نظریات کو تبدیل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور انفرادی فوائد کو ترجیح دی جا رہی ہے۔
دوسری جانب امریکن کالج آف فزیشنز کے جریدے میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق ہفتے میں تین بار سرخ گوشت کا کم استعمال ایک ہزار افراد میں سے صرف سات کو کینسر سے موت سے بچا سکتا ہے۔ محققین کا کہنا ہے کہ یہ تعداد بہت کم ہے اس لیے حتمی طور پر یہ نہیں کہا جا سکتا کہ سرخ گوشت واقعی کینسر کا سبب بنتا ہے یا نہیں۔
عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے واضح کیا ہے کہ وہ 30 سال پرانی اپنی ایڈوائزری میں کوئی تبدیلی نہیں لائیں گے اور سرخ گوشت کے کم استعمال کی تجویز برقرار رکھیں گے۔ دنیا کے مختلف ممالک میں بھی یہی ہدایات دی جاتی ہیں۔ امریکن کنیسر سوسائٹی کے ڈاکٹر مرجی مکولوف کا کہنا ہے کہ نئی تحقیق میں لوگوں کی انفرادی ترجیحات کو بنیاد بنایا گیا ہے۔ انہوں نے مثال دی کہ ہیلمٹ پہننے سے جان بچ سکتی ہے لیکن بہت سے لوگ حادثات میں بھی بچ جاتے ہیں، فیصلہ انفرادی ہے۔

Advertisement