صدر پوتن نے آیت اللہ علی خامنہ ای کے قتل کو اخلاقی اور قانونی اصولوں کی سنگین خلاف ورزی قرار دے دیا

Putin Putin

صدر پوتن نے آیت اللہ علی خامنہ ای کے قتل کو اخلاقی اور قانونی اصولوں کی سنگین خلاف ورزی قرار دے دیا

ماسکو (صداۓ روس)
روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور ان کے خاندان کے افراد کی شہادت پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔ کریملن کی جانب سے جاری ٹیلی گرام میں پوتن نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ قتل “انسانی اخلاقیات اور بین الاقوامی قانون کے تمام اصولوں کی انتہائی بدترین اور بے شرمانہ خلاف ورزی” ہے۔ پوتن نے لکھا: “براہ مہربانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور ان کے خاندان کے افراد کی شہادت پر میری گہری تعزیت قبول کریں جو انسانی اخلاقیات اور بین الاقوامی قانون کے تمام اصولوں کی کھلی خلاف ورزی میں کی گئی ہے۔” انہوں نے مزید کہا: “میں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ سپریم لیڈر کے خاندان، حکومت اور ایران کے تمام عوام تک میری مخلصانہ ہمدردی اور تعاون پہنچائیں۔”
یہ بیان 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر شروع کیے گئے بڑے پیمانے پر فوجی آپریشن کے تناظر میں سامنے آیا ہے جس میں تہران سمیت ایران کے اہم شہروں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ وائٹ ہاؤس نے حملے کو ایران کی میزائل اور جوہری دھمکیوں کے خلاف جواز قرار دیا تھا۔
ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن نے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کی تصدیق کی تھی۔ ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکریٹری علی لاریجانی نے اعلان کیا کہ قیادت کونسل سپریم لیڈر کے جانشین کے انتخاب تک ذمہ داریاں سنبھالے گی۔
روس نے اس حملے کی شدید مذمت کی ہے اور اسے علاقائی اور عالمی امن کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا ہے۔ پوتن کا یہ بیان دونوں ممالک کے درمیان گہرے اسٹریٹجک تعلقات اور ایران کے خلاف کسی بھی جارحیت کی مخالفت کی عکاسی کرتا ہے۔