مسلسل ایرانی حملے، خلیجی ممالک سے غیر ملکی اور امیر افراد کا انخلاء تیز
ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)
مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی اور ایران کی جانب سے جاری میزائل و ڈرون حملوں کے باعث خلیجی ممالک سے غیر ملکی شہریوں، سرمایہ کاروں اور اعلیٰ کاروباری شخصیات کے انخلاء میں تیزی آ گئی ہے، جبکہ سعودی عرب کا دارالحکومت ریاض خطے سے نکلنے کے لیے مرکزی مرکز بن کر ابھر رہا ہے۔ امریکی اخبار ’’سیمافور‘‘ کی رپورٹ کے مطابق ریاض کا کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ خطے کے ان چند بڑے ہوائی اڈوں میں شامل ہے جو اب بھی معمول کے مطابق فعال ہیں۔ دوسری جانب ایرانی حملوں کے باعث دبئی، ابوظہبی، قطر اور بحرین میں فضائی سرگرمیاں شدید متاثر ہوئی ہیں، جبکہ متعدد مقامات پر فضائی حدود بند ہونے سے ہزاروں افراد پھنس کر رہ گئے ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کئی سینئر ایگزیکٹوز اور امیر افراد زمینی راستے اختیار کرتے ہوئے ریاض پہنچ رہے ہیں۔ بعض افراد دبئی سے تقریباً دس گھنٹے کا طویل سفر طے کرکے سعودی دارالحکومت پہنچ رہے ہیں تاکہ وہاں سے نجی یا تجارتی پروازوں کے ذریعے یورپ اور دیگر محفوظ مقامات کا رخ کر سکیں۔
ذرائع کے مطابق نجی سیکیورٹی کمپنیاں اپنے کلائنٹس کے انخلاء کے لیے ایس یو وی گاڑیوں کے پورے بیڑے کرائے پر لے رہی ہیں اور بعد ازاں چارٹرڈ طیاروں کا انتظام کیا جا رہا ہے۔ انخلاء کرنے والوں میں عالمی مالیاتی اداروں کے اعلیٰ عہدیدار، کاروباری شخصیات اور وہ امیر افراد شامل ہیں جو کاروباری یا سیاحتی مقاصد کے تحت خلیجی ممالک میں موجود تھے۔
طلب میں اچانک اضافے کے باعث اخراجات میں بھی غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ نجی جیٹ بروکریج کمپنی ’’ویمانہ پرائیویٹ‘‘ کے چیف ایگزیکٹو امیر نارن کے مطابق اس وقت ریاض خطے سے باہر نکلنے کے لیے ’’واحد حقیقی آپشن‘‘ بن چکا ہے، جہاں سے یورپ کے لیے نجی جیٹ چارٹر کی قیمت 3 لاکھ 50 ہزار ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق متبادل راستے بھی محدود ہو چکے ہیں۔ ابتدائی طور پر عمان کو بطور راہداری استعمال کرنے پر غور کیا گیا تھا، تاہم ایران کے مبینہ حملوں میں عمان کی بندرگاہوں اور ایک آئل ٹینکر کو نقصان پہنچنے کے بعد یہ راستہ بھی غیر مؤثر ہو گیا، جس کے نتیجے میں ریاض سب سے قابلِ رسائی ٹرانزٹ پوائنٹ بن گیا ہے۔