سائنسدانوں نے کینسر کے خلیات مکمل طور پر تباہ کرنے کا نیا طریقہ تیارکرلیا

Hospital Hospital

سائنسدانوں نے کینسر کے خلیات مکمل طور پر تباہ کرنے کا نیا طریقہ تیارکرلیا

واشنگٹن (سائنس ڈیسک)
امریکا کی Oregon State University کے سائنسدانوں نے آئرن پر مشتمل ایک نیا نینو میٹریل تیار کیا ہے جو صحت مند خلیات کو نقصان پہنچائے بغیر کینسر کے خلیات کو اندر سے مکمل طور پر تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس نئی تحقیق کی تفصیلات یکم مارچ کو سائنسی جریدے سائنس ڈیلی میں شائع کی گئیں۔ تحقیق کے مطابق یونیورسٹی کے کالج آف فارمیسی سے تعلق رکھنے والی ماہرین کی ٹیم نے ایسا نینو میٹریل تیار کیا ہے جو کینسر کے خلیات کے اندر بیک وقت دو کیمیائی عمل کو متحرک کرتا ہے، جس کے نتیجے میں آکسیڈیٹو اسٹریس پیدا ہوتا ہے اور سرطان زدہ خلیات تباہ ہو جاتے ہیں، جبکہ اردگرد موجود صحت مند خلیات محفوظ رہتے ہیں۔ یہ طریقہ علاج Chemodynamic Therapy (سی ڈی ٹی) کے تصور کو مزید مؤثر بناتا ہے، جس میں رسولیوں کے مخصوص کیمیائی ماحول — جیسے زیادہ تیزابیت اور ہائیڈروجن پر آکسائیڈ کی بلند سطح — کو استعمال کیا جاتا ہے۔ روایتی سی ڈی ٹی طریقوں میں عام طور پر ایک ہی قسم کے ری ایکٹو آکسیجن مالیکیول پیدا کیے جاتے تھے، جس سے علاج کی افادیت محدود رہتی تھی۔

سائنسدانوں کے تیار کردہ نئے آئرن میٹل آرگینک فریم ورک (MOF) پر مبنی نینو ایجنٹ میں یہ صلاحیت موجود ہے کہ وہ بیک وقت دو مختلف اقسام کے ری ایکٹو آکسیجن اسپیشیز پیدا کرے، جس سے کینسر خلیات کو تباہ کرنے کی طاقت نمایاں طور پر بڑھ جاتی ہے۔ لیبارٹری تجربات کے دوران مختلف سیل لائنز پر اس نینو میٹریل نے رسولی کے خلیات کے خلاف انتہائی مؤثر زہریلا اثر دکھایا، جبکہ صحت مند خلیات پر اس کے اثرات نہایت محدود رہے۔ تحقیق میں شامل سائنسدان اولینا تاراتولا کے مطابق جب اس نینو ایجنٹ کو انسانی بریسٹ کینسر کے خلیات رکھنے والے چوہوں میں استعمال کیا گیا تو یہ براہِ راست رسولیوں میں جمع ہوا، کینسر کو مکمل طور پر ختم کیا اور کسی قسم کے مضر اثرات بھی سامنے نہیں آئے۔ مزید یہ کہ طویل عرصے تک بیماری کے دوبارہ ظاہر ہونے کی روک تھام بھی دیکھی گئی۔ محققین کے مطابق تحقیق کے اگلے مرحلے میں اس طریقہ علاج کو دیگر اقسام کے کینسر، خصوصاً لبلبے کے جارحانہ سرطان پر آزمایا جائے گا تاکہ اس کی وسیع پیمانے پر طبی افادیت کا جائزہ لیا جا سکے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جدید جینیاتی تشخیص کینسر کے علاج کے فیصلوں میں اہم کردار ادا کرتی ہے، تاہم بغیر طبی ماہر کے مشورے کے ایسے ٹیسٹوں کی خود تشریح خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔