ٹرمپ کی ’رجیم چینج‘ پالیسی تیسری عالمی جنگ کا سبب بن سکتی ہے، میدویدیف
ماسکو (صداۓ روس)
روس کے سابق صدر Dmitry Medvedev نے خبردار کیا ہے کہ امریکی صدر Donald Trump کی مبینہ “رجیم چینج” پالیسی تیسری عالمی جنگ کو جنم دے سکتی ہے۔
روسی خبر رساں ادارے TASS کو دیے گئے ایک انٹرویو میں، جو پیر کو شائع ہوا، میدویدیف سے پوچھا گیا کہ کیا تیسری عالمی جنگ کا آغاز ہو چکا ہے؟ اس پر انہوں نے جواب دیا: “تکنیکی طور پر نہیں، لیکن اگر ٹرمپ اپنی مجرمانہ رجیم چینج پالیسی پر قائم رہے تو یہ بلاشبہ شروع ہو سکتی ہے۔ کوئی بھی واقعہ اس کا محرک بن سکتا ہے۔ کوئی بھی۔” میدویدیف، جو اس وقت روسی سلامتی کونسل کے نائب چیئرمین ہیں، نے کہا کہ ایران پر حملہ امریکا اور اس کے اتحادیوں کی عالمی برتری برقرار رکھنے کی وسیع تر جنگ کا حصہ ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے قتل کا حکم دے کر ٹرمپ نے “سنگین غلطی” کی اور اس اقدام سے “تمام امریکیوں کو خطرے میں ڈال دیا”۔ میدویدیف کے مطابق اس واقعے کے بعد ایران جوہری ہتھیاروں کی تیاری کی کوششیں تیز کر دے گا۔
ایران کی موجودہ صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگرچہ قیادت کے نقصان اور جنگ کے باعث تعمیرِ نو کی لاگت زیادہ ہوگی، تاہم اسلامی جمہوریہ اس بحران سے نکلنے میں کامیاب ہو جائے گا۔ ان کے بقول، “اس کے لیے سماجی اتحاد کی اعلیٰ سطح درکار ہوتی ہے، اور امریکی اقدامات نے ایران میں یہی اتحاد پیدا کر دیا ہے۔”
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا ایران کی طرح مذاکرات کے دوران روس کو بھی کسی حملے کا خطرہ لاحق ہو سکتا ہے، تو میدویدیف نے کہا کہ اس کا “واحد ضامن” روس کی جوہری طاقت ہے۔ ان کے مطابق امریکا روس سے خائف ہے اور جوہری تصادم کی قیمت سے بخوبی آگاہ ہے۔ یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب مشرق وسطیٰ اور یورپ میں سیکیورٹی خدشات بڑھ رہے ہیں اور عالمی سطح پر بڑی طاقتوں کے درمیان کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔