روس میں بدعنوان اہلکاروں کے لیے مکمل جائیداد ضبطی کی تجویز

Aleksandr Bastrykin Aleksandr Bastrykin

روس میں بدعنوان اہلکاروں کے لیے مکمل جائیداد ضبطی کی تجویز

ماسکو (صداۓ روس)
روس کی تحقیقاتی کمیٹی کے سربراہ Aleksandr Bastrykin نے بدعنوانی کے مرتکب سرکاری اہلکاروں کے لیے بطورِ سزا مکمل جائیداد ضبط کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔ روس میں حالیہ برسوں کے دوران بدعنوانی کے خلاف کارروائیوں میں تیزی آئی ہے اور متعدد اہم مقدمات سامنے آئے ہیں۔ منگل کے روز تحقیقاتی کمیٹی کے کولیجیئم کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے باسٹرکِن نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ بدعنوان اہلکاروں کے لیے بطورِ فوجداری سزا ان کی تمام جمع شدہ جائیداد ضبط کرنے کا قانون متعارف کرایا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ اعلیٰ سطح کی بدعنوانی پر قابو پانے کے لیے سخت اور فیصلہ کن اقدامات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ روسی معاشرہ طویل عرصے سے ایسے سخت اقدامات کا منتظر ہے اور اس سے ریاستی خزانے کو بھی فائدہ پہنچے گا۔ باسٹرکِن کے مطابق یوکرین کے خلاف جاری فوجی مہم اور بڑے سرکاری منصوبوں کے تناظر میں بدعنوانی ایک سنگین اسٹریٹجک خطرہ بن چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بدعنوانی براہِ راست ملکی معیشت، استحکام اور عوام کے حکومتی اداروں پر اعتماد کو نقصان پہنچاتی ہے۔

تحقیقاتی کمیٹی کے اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں بدعنوانی سے متعلق فوجداری مقدمات کی تعداد میں اضافہ دیکھا گیا اور 14 ہزار 200 مقدمات عدالتوں تک پہنچے۔ مختلف سطحوں کے 308 قانون سازوں اور بلدیاتی سربراہان سمیت استغاثہ کے دفاتر اور تحقیقاتی اداروں کے درجنوں اہلکاروں پر بھی فردِ جرم عائد کی گئی۔ گزشتہ سال وزارتِ دفاع میں بڑی سطح پر رد و بدل کے بعد کئی اعلیٰ فوجی افسران کو بھی بدعنوانی کے الزامات میں گرفتار کیا گیا۔ موجودہ روسی قانون کے تحت مخصوص جرائم میں جائیداد ضبط کی جا سکتی ہے، تاہم ریاست صرف وہی اثاثے ضبط کر سکتی ہے جو جرم میں استعمال ہوئے ہوں یا جرم کے ذریعے حاصل کیے گئے ہوں، یا وہ اثاثے جو دہشت گردی اور انتہا پسندی کی مالی معاونت کے لیے مختص ہوں۔ گزشتہ سال جولائی میں روسی نیشنل گارڈ (روس گوارڈیا) کے سابق اول نائب سربراہ کرنل جنرل Viktor Strigunov کو اختلاس اور بدعنوانی کے شبے میں گرفتار کیا گیا تھا۔ تفتیش کاروں کے مطابق ان کی مجرمانہ سرگرمیوں کے ایک واقعے سے ریاست کو دو ارب روبل (تقریباً 25 ملین ڈالر) سے زائد کا نقصان ہوا۔ جرم ثابت ہونے کی صورت میں انہیں زیادہ سے زیادہ 15 سال قید اور بھاری جرمانے کا سامنا ہو سکتا ہے۔