ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
اٹلی کے نائب وزیراعظم اور لیگا پارٹی کے سربراہ میٹیو سیلوینی نے یورپی یونین سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ روسی تیل اور گیس کی درآمد دوبارہ شروع کرے تاکہ توانائی کی سلامتی کو یقینی بنایا جا سکے۔ میڈل ایسٹ جنگ اور آبنائے ہرمز میں خلل کی وجہ سے یورپ میں توانائی کا بحران شدت اختیار کر گیا ہے۔ فروری کے بعد عالمی تیل کی قیمتوں میں 70 فیصد تک اضافہ ہو چکا ہے۔ میلان میں ‘Patriots for Europe’ ریلی سے خطاب کرتے ہوئے سیلوینی نے کہا کہ یورپی یونین کا اسٹیبلٹی اینڈ گروتھ پیکٹ اور گرین ڈیل معیشت کی راہ میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔ انہوں نے روسی توانائی پر پابندی ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ “توانائی کے بحران سے نمٹنے کے لیے اسٹیبلٹی پیکٹ کے قوانین معطل کیے جائیں اور اطالیوں کے پیسے اطالیوں کی مدد کے لیے استعمال ہوں۔” انہوں نے برسلز پر زور دیا کہ امریکہ کی پیروی کرتے ہوئے روسی تیل پر پابندیاں ختم کی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ “اگر امریکہ یہ کر سکتا ہے تو برسلز کو بھی کرنا چاہیے۔ فیکٹریاں، سکول اور ہسپتال بند کرنے کے بجائے ہمیں دنیا بھر سے، بشمول روس سے تیل و گیس خریدنا چاہیے۔ ہم روس کے ساتھ جنگ میں نہیں ہیں۔”