ایران جنگ کے لیے تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل ہونا چھوٹی قیمت ہے، ڈونلڈ ٹرمپ

ایران جنگ کے لیے تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل ہونا چھوٹی قیمت ہے، ڈونلڈ ٹرمپ

ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ کے دوران اگر تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی زیادہ ہو جائے تو یہ عالمی امن اور سلامتی کے مقابلے میں ایک “بہت چھوٹی قیمت” ہے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب اتوار کو برینٹ کروڈ کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی، جو 2020 میں کووڈ۔19 وبا کے آغاز کے بعد سب سے بڑا یومیہ اضافہ ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کے فضائی حملوں کے ردعمل میں ایران نے آبنائے ہرمز بند کر دی ہے اور اس آبی گزرگاہ سے گزرنے والے تیل بردار جہازوں کو نشانہ بنایا ہے۔ آبنائے ہرمز کے ذریعے دنیا کی تقریباً پانچواں حصہ تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔ عراق، متحدہ عرب امارات اور کویت جیسے بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک نے بھی ذخیرہ کرنے کی گنجائش ختم ہونے کے بعد اپنی پیداوار کم کر دی ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ جنگ کے باعث تیل کی قیمتوں میں عارضی اضافہ کوئی بڑی بات نہیں ہے۔ ان کے مطابق ایران کے جوہری خطرے کے خاتمے کے بعد تیل کی قیمتیں تیزی سے نیچے آ جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اور دنیا کے امن و سلامتی کے لیے یہ قیمت ادا کرنا معمولی بات ہے اور جو لوگ اس سے اختلاف کرتے ہیں وہ غلط سوچ رکھتے ہیں۔

ادھر صدارتی انتخابی مہم کے دوران ٹرمپ نے سستا ایندھن اور مہنگی جنگوں سے گریز کا وعدہ کیا تھا، تاہم امریکن آٹوموبائل ایسوسی ایشن کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ ایک ہفتے کے دوران امریکہ میں پٹرول کی اوسط قیمت میں تقریباً 15 فیصد اضافہ ہو کر 3.45 ڈالر فی گیلن ہو گئی ہے جبکہ بعض علاقوں میں یہ اضافہ تقریباً 30 فیصد تک رپورٹ ہوا ہے۔

امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے کہا ہے کہ واشنگٹن تیل کی قیمتیں کم کرنے کے لیے مزید اقدامات پر غور کر رہا ہے، جبکہ امریکی وزیر توانائی کرس رائٹ نے کہا کہ پٹرول کی قیمت جلد ہی دوبارہ 3 ڈالر فی گیلن سے کم کر دی جائے گی۔

اسی دوران امریکی وزارت خزانہ نے بھارت کو عارضی طور پر روس سے تیل خریدنے کی اجازت دے دی ہے۔ اسکاٹ بیسنٹ کے مطابق امریکہ روس کی توانائی برآمدات پر عائد بعض پابندیاں نرم کرنے پر بھی غور کر سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر ایران کے ساتھ تنازع طویل ہو گیا تو تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ جے پی مورگن کے چیف ماہر اقتصادیات بروس کاسمن نے کہا کہ قلیل مدت میں خام تیل کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل تک جا سکتی ہے، جبکہ روسی صدر کے سرمایہ کاری امور کے نمائندے کریل دمتریئیف نے خبردار کیا ہے کہ طویل جنگ کی صورت میں قیمتیں 200 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر سکتی ہیں۔