ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ واشنگٹن پہلے ہی ایران پر غیر معمولی دباؤ ڈال چکا ہے، تاہم مزید پابندیاں اور اقدامات بھی کیے جا سکتے ہیں۔ روبیو نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران کے خلاف عائد پابندیوں نے سخت دباؤ پیدا کیا ہے، لیکن امریکہ کے پاس دباؤ بڑھانے کے مزید ذرائع بھی موجود ہیں۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی بدستور برقرار ہے۔ یاد رہے کہ 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے خلاف فوجی کارروائیاں شروع کی تھیں، جن میں تہران سمیت مختلف مقامات پر حملے کیے گئے۔ ان کارروائیوں میں نقصان اور شہری ہلاکتوں کی اطلاعات سامنے آئیں۔ اس کے جواب میں ایران نے اسرائیلی علاقوں اور مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا تھا، جس کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی۔ بعد ازاں 7 اپریل کو واشنگٹن اور تہران نے دو ہفتوں کی جنگ بندی کا اعلان کیا، جبکہ اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکے۔ بعد میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ جنگ بندی اس وقت تک برقرار رکھی جائے گی جب تک ایران اپنی تجاویز پیش نہیں کرتا اور مذاکرات مکمل نہیں ہو جاتے۔