ایران آپریشن جاری رہا تو ڈیموکریٹس ٹرمپ پر مقدمہ کر سکتے ہیں، رپورٹ

US congress US congress

ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)

امریکی کانگریس میں ڈیموکریٹک پارٹی کے ارکان صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف ممکنہ قانونی کارروائی پر غور کر رہے ہیں، اگر ایران کے خلاف فوجی آپریشن یکم مئی کے بعد بھی کانگریس کی منظوری کے بغیر جاری رکھا گیا۔ رپورٹ کے مطابق امریکی جریدے نے بتایا ہے کہ قانون ساز اس معاملے پر مقدمہ دائر کرنے کے امکانات کا جائزہ لے رہے ہیں۔ 1973 کے وار پاورز ریزولوشن کے تحت صدر ٹرمپ نے 2 مارچ کو کانگریس کو فوجی کارروائی کے آغاز سے متعلق باضابطہ اطلاع دی تھی، جس کے بعد انہیں 60 دن تک کانگریس کی منظوری کے بغیر کارروائی جاری رکھنے کا اختیار حاصل تھا۔ یہ مدت یکم مئی کو ختم ہو رہی ہے۔ ڈیموکریٹ اراکین کا مؤقف ہے کہ یہ ڈیڈ لائن ان کے لیے بہترین موقع ہے کہ وہ اس جنگ کو چیلنج کریں، جسے وہ غیر قانونی طور پر شروع کیا گیا آپریشن قرار دیتے ہیں۔

ذرائع کے مطابق اس حوالے سے بات چیت ابتدائی مرحلے میں ہے، تاہم اگر ایران کے خلاف فوجی کارروائیاں مقررہ مدت کے بعد بھی جاری رہیں تو قانونی اقدام تیز ہو سکتا ہے۔ امریکی آئین کے تحت جنگ کے اعلان اور طویل عسکری کارروائیوں میں کانگریس کے کردار کو اہم سمجھا جاتا ہے، اسی وجہ سے یہ معاملہ سیاسی اور قانونی بحث کا مرکز بنتا جا رہا ہے۔