آذربائیجان نے ایران کے ساتھ سرحد پر سامان کی آمدورفت دوبارہ شروع کردی

Border Border

آذربائیجان نے ایران کے ساتھ سرحد پر سامان کی آمدورفت دوبارہ شروع کردی

ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
آذربائیجان نے 9 مارچ بروز پیر سے ایران کے ساتھ سرحد پر سامان کی آمدورفت دوبارہ بحال کر دی ہے جو 5 مارچ سے معطل تھی۔ یہ اعلان حکومت کی جانب سے جاری کیا گیا ہے۔ حکومتی ویب سائٹ پر جاری بیان کے مطابق “جمہوریہ آذربائیجان اور اسلامی جمہوریہ ایران کے درمیان ریاستی سرحد پر سامان کی ترسیل کے لیے استعمال ہونے والے تمام قسم کے گاڑیوں کی آمدورفت (بشمول ٹرانزٹ مقاصد کے لیے) 9 مارچ 2026 کو صبح 10 بجے (ماسکو ٹائم 9 بجے) سے دوبارہ شروع ہو جائے گی۔”
5 مارچ کی صبح APA نیوز ایجنسی نے نخچوان ایئرپورٹ پر ایرانی ڈرون کے گرنے کی اطلاع دی تھی۔ آذربائیجان کے پراسیکیوٹر جنرل آفس نے اس پر فوجداری مقدمہ درج کر کے ابتدائی تفتیش کا حکم دیا تھا۔
7 مارچ کو روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریا زاخارووا نے کہا تھا کہ نخچوان پر ڈرون حملے کی ذمہ داری ایران پر حملہ آوروں پر عائد ہوتی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ موجودہ کشیدگی کے پیش نظر آذربائیجان اور ایران کو غیر ذمہ دارانہ اقدامات سے گریز کرنا چاہیے اور تمام واقعات کی حقیقت کی تصدیق کرنی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی امریکہ اور اسرائیل کی غیر قانونی جارحیت کا نتیجہ ہے۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے 8 مارچ کو بیان دیا تھا کہ ایران کا نخچوان خود مختار جمہوریہ کے علاقے پر ڈرون حملے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس واقعے کی تحقیقات کی جائیں گی۔