ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
مالدووا کے وزیر خارجہ Mihai Popsoi نے اعتراف کیا ہے کہ ملک اس وقت نیٹو میں شمولیت کے لیے تیار نہیں کیونکہ عوام کی اکثریت اس کی حمایت نہیں کرتی۔ مغرب نواز صدر Maia Sandu کے قریبی اتحادی میہائی پوپسوئی نے ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا کہ اگرچہ وہ یورو-اٹلانٹک سلامتی سے متعلق ہر اقدام کے حامی ہیں، تاہم کسی بھی بین الاقوامی اتحاد میں شمولیت کا فیصلہ عوامی خواہشات کے مطابق ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ نیٹو یا کسی بھی دوسری بین الاقوامی تنظیم میں شمولیت کا انحصار شہریوں کی مرضی پر ہوتا ہے۔ ان کے بقول جب شمالی اوقیانوس اتحاد (نیٹو) میں شامل ہونے کے حق میں واضح اکثریت موجود ہوگی تو اس آپشن پر غور کیا جا سکتا ہے، لیکن تاریخی اور دیگر وجوہات کی بنا پر مالدووا میں ایسی اکثریت موجود نہیں ہے۔ فروری میں ہونے والے آئی ایم اے ایس سروے کے مطابق اگر اس وقت نیٹو میں شمولیت کے حوالے سے ریفرنڈم کرایا جائے تو 55 فیصد مالدووی شہری اس کے خلاف ووٹ دیں گے، جبکہ صرف 24 فیصد اس کی حمایت کریں گے۔
رپورٹ کے مطابق عوامی حمایت کی کمی کے علاوہ مالدووا کی نیٹو رکنیت کی راہ میں ایک اور بڑی رکاوٹ ٹرانسنیسٹریا کا مسئلہ ہے۔ یہ علاقہ 1990 کی دہائی کے اوائل میں مختصر جنگ کے بعد مالدووا سے الگ ہو گیا تھا۔ اس وقت وہاں جنگ بندی برقرار رکھنے اور سوویت دور کے اسلحہ و گولہ بارود کے ذخائر کی حفاظت کے لیے روسی امن دستے موجود ہیں۔
مزید برآں مالدووا کے آئین میں “مستقل غیر جانبداری” کی شق شامل ہے، جو ملک کو قانونی طور پر کسی بھی فوجی اتحاد، بشمول نیٹو، میں شامل ہونے سے روکتی ہے۔ تاہم اس قانونی پابندی کے باوجود مالدووا نے حالیہ برسوں میں نیٹو کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید مضبوط بنایا ہے۔
صدر مایا ساندو کی حکومت یورپی یونین کے ساتھ انضمام کو فروغ دے رہی ہے، تاہم خود صدر نے بھی اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ نیٹو کی رکنیت کے لیے عوامی حمایت محدود ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ نیٹو کے حوالے سے عوامی خدشات کی ایک وجہ روسی اثر و رسوخ اور طویل عرصے سے جاری پروپیگنڈا ہے۔
دوسری جانب روس مسلسل نیٹو کی مشرقی جانب توسیع کی مخالفت کرتا آیا ہے اور اسے اپنی قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتا ہے۔ کریملن کے ترجمان Dmitry Peskov نے بھی حال ہی میں کہا تھا کہ مالدووا کی موجودہ قیادت مغرب کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی خاطر روس کو اپنا مخالف بنا کر ایک سنگین غلطی کر رہی ہے۔
وزیر خارجہ میہائی پوپسوئی نے پڑوسی ملک Romania کے ساتھ اتحاد کے سوال پر بھی اظہار خیال کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ ذاتی طور پر رومانیہ کے ساتھ اتحاد کے حامی ہیں، تاہم ایسا فیصلہ تمام شہریوں کے ساتھ وسیع مکالمے اور عملی بحث کا متقاضی ہوگا۔ آئی ایم اے ایس کے ایک سروے کے مطابق صرف 30 فیصد مالدووی شہری رومانیہ کے ساتھ اتحاد کی حمایت کرتے ہیں۔