ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
جرمن چانسلر Friedrich Merz کی جماعت کرسچین ڈیموکریٹک یونین (سی ڈی یو) کے ایک سینئر رکن نے تجویز پیش کی ہے کہ بزرگ شہریوں کو سرکاری مالی معاونت حاصل کرنے سے پہلے اپنی جائیداد، بشمول ذاتی رہائش گاہ، استعمال کرنا چاہیے۔ اس تجویز نے جرمنی میں سماجی بہبود کے نظام اور بزرگوں کی نگہداشت کے اخراجات کے حوالے سے نئی سیاسی بحث چھیڑ دی ہے۔
جرمن پارلیمان (بنڈس ٹاگ) میں سی ڈی یو/سی ایس یو پارلیمانی گروپ کے نائب چیئرمین Albert Stegemann نے کہا ہے کہ جن افراد کے پاس اثاثے موجود ہیں، انہیں پہلے اپنے وسائل استعمال کرنے چاہئیں، اس کے بعد ہی ریاست یا معاشرہ ان کی مالی مدد کرے۔
انہوں نے جرمن اخبار بلڈ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جو لوگ جائیداد کے مالک ہیں، انہیں سرکاری معاونت حاصل کرنے سے قبل اپنے گھر سمیت تمام اثاثوں سے استفادہ کرنا چاہیے۔
جرمنی کے طویل مدتی نگہداشت کے نظام کے تحت سب سے پہلے لازمی انشورنس نرسنگ ہوم کے اخراجات کا ایک حصہ ادا کرتی ہے، جبکہ باقی رقم مریض اپنی پنشن، بچت یا دیگر اثاثوں سے ادا کرتا ہے۔ اگر یہ وسائل ختم ہو جائیں تو ریاستی سماجی بہبود کا نظام باقی اخراجات برداشت کرتا ہے۔
البرٹ اسٹیگمان کا مؤقف ہے کہ گھر کے مالکان کو سرکاری امداد تک رسائی سے پہلے اپنی رہائشی جائیداد کی مالی قدر بھی استعمال کرنی چاہیے۔ یہ تجویز ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب جرمن حکومت طویل مدتی نگہداشت کے مالیاتی نظام میں بڑے پیمانے پر اصلاحات پر غور کر رہی ہے۔
جرمنی کی وزیر صحت Nina Warken نے خبردار کیا ہے کہ اگر اصلاحات نہ کی گئیں تو آئندہ دو برسوں میں ملک کے قانونی نگہداشت انشورنس نظام کو 22 ارب یورو سے زائد خسارے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
یہ بحث ایسے وقت میں جاری ہے جب جرمنی کی معیشت مسلسل دباؤ کا شکار ہے۔ یوکرین تنازع کے بعد توانائی کے بحران نے یورپ کی سب سے بڑی معیشت کو شدید متاثر کیا۔ اگرچہ جرمنی 2025 میں باضابطہ طور پر کساد بازاری سے نکل آیا تھا، تاہم 2026 میں معاشی نمو صرف 0.5 فیصد رہنے کی پیش گوئی کی جا رہی ہے، جبکہ مشرق وسطیٰ سے جڑے نئے توانائی بحران نے صنعتی شعبے کو مزید مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق جرمنی 2022 سے اب تک یوکرین کے لیے 96 ارب یورو سے زائد کی فوجی اور سول امداد فراہم کرنے کا وعدہ کر چکا ہے، جبکہ ملک کے اندر 100 ارب یورو کے فوجی توسیعی منصوبے کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔
اس تجویز کو حکومتی اتحادیوں اور سماجی بہبود کی تنظیموں کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا ہے۔ سوشل ڈیموکریٹک پارٹی (ایس پی ڈی) کے صحت کے امور کے ماہر Christos Pantazis نے کہا کہ بہت سے خاندان اپنے گھر اور پوری زندگی کی کمائی کھو دینے کے خدشات میں مبتلا ہیں۔ انہوں نے اس تجویز کو “غیر معقول” قرار دیا۔
اپوزیشن جماعت گرینز نے بھی حکومت پر سماجی طور پر غیر ذمہ دارانہ پالیسیوں کے فروغ کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسی تجاویز بزرگ شہریوں اور متوسط طبقے کے لیے مزید مشکلات پیدا کریں گی۔