آسٹریلیا نے قومی ترانہ گانے سے انکار کرنے والی ایرانی خواتین فٹبالرز کو پناہ دے دی

Iranian women's football Iranian women's football

ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
آسٹریلیا نے ایرانی خواتین فٹبال ٹیم کی پانچ کھلاڑیوں کو پناہ فراہم کر دی ہے جنہوں نے ایک ٹورنامنٹ میں قومی ترانہ گانے سے انکار کر دیا تھا۔ یہ اطلاع 10 مارچ کو آسٹریلین وزیر داخلہ ٹونی برک کے بیان کے حوالے سے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) نے دی ہے۔ رپورٹ کے مطابق پولیس نے کھلاڑیوں کو گولڈ کوسٹ ہوٹل سے “محفوظ مقام” پر منتقل کیا جہاں وزیر داخلہ سے ملاقات کے بعد ان کے انسانی ہمدردی ویزے پر عملدرآمد کیا گیا۔

ٹونی برک نے کہا کہ “میں تصور بھی نہیں کر سکتا کہ ان خواتین کے لیے یہ فیصلہ کتنا مشکل رہا ہوگا۔ لیکن گزشتہ رات یہ خوشی اور سکون کا لمحہ تھا۔ وہ آسٹریلیا میں نئی زندگی شروع کرنے کے موقع پر بہت پرجوش تھیں۔” وزیر داخلہ نے خواتین کی دستاویزات پر دستخط کرتے ہوئے مسکراتے اور تالیاں بجاتے ہوئے تصویر بھی شیئر کی۔ انہوں نے بتایا کہ کھلاڑیاں یہ واضح کرنا چاہتی تھیں کہ وہ سیاسی کارکن نہیں ہیں۔ 2 مارچ کو ایرانی خواتین نیشنل فٹبال ٹیم نے ایشین کپ کے گروپ مرحلے میں جنوبی کوریا کے خلاف میچ سے پہلے قومی ترانہ نہیں گایا۔ کھلاڑیوں اور کوچنگ سٹاف نے تقریب کے دوران خاموشی اختیار کی۔ میچ کے بعد ہیڈ کوچ مرضیہ جعفری اور کھلاڑیوں نے سیاسی صورتحال پر سوالات کا جواب دینے سے انکار کر دیا۔ 9 مارچ کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آسٹریلین وزیراعظم انتھونی البانیز سے مطالبہ کیا تھا کہ ایرانی خواتین فٹبال ٹیم کو پناہ دی جائے۔ انہوں نے کہا تھا کہ اگر ایران واپس بھیجی گئیں تو یہ “انسانی حقوق کا سنگین جرم” ہوگا۔
ٹیگز: