ایران نے جوہری ہتھیار بنانے کا عندیہ دے دیا

Nuclear Blast Nuclear Blast

ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)

ایران کے وزیر خارجہ Abbas Araghchi نے کہا ہے کہ ملک کے جوہری ہتھیاروں سے متعلق مؤقف کا انحصار نئے سپریم لیڈر Mojtaba Khamenei کے موقف پر ہوگا، کیونکہ انہوں نے ابھی تک اس حوالے سے اپنی پالیسی کا باضابطہ اعلان نہیں کیا۔ الجزیرہ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ ایران کی جوہری حکمت عملی ہمیشہ پُرامن رہی ہے اور ملک نے ہمیشہ پُرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی سے فائدہ اٹھانے کے حق کو ترجیح دی ہے۔ انہوں نے مرحوم سپریم لیڈر Ali Khamenei کے اس فتوے کا حوالہ بھی دیا جس میں جوہری ہتھیاروں کی تیاری کو ممنوع قرار دیا گیا تھا۔ عباس عراقچی کے مطابق فتوے کا دارومدار اس شخصیت پر ہوتا ہے جو اسے جاری کرتی ہے، اس لیے وہ اس وقت یہ حتمی طور پر نہیں کہہ سکتے کہ نئے رہبر کا اس معاملے پر قانونی یا سیاسی مؤقف کیا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ان کی ذاتی رائے میں نئی قیادت کی پالیسی غالباً سابقہ مؤقف سے زیادہ مختلف نہیں ہوگی، تاہم حتمی رائے کے لیے نئے رہبر کے باضابطہ موقف کا انتظار کرنا ہوگا۔

ایران اس سے قبل بھی بارہا واضح کر چکا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش نہیں کر رہا۔ سپریم لیڈر علی خامنہ ای کا جوہری ہتھیاروں کی تیاری پر پابندی سے متعلق فتویٰ 2003 سے نافذ العمل ہے۔ دوسری جانب امریکہ اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران کے خلاف فوجی کارروائی شروع کی تھی، جس کے دوران تہران سمیت ایران کے کئی بڑے شہروں کو نشانہ بنایا گیا۔ White House نے اس حملے کو ایران کی مبینہ میزائل اور جوہری خطرات کے تناظر میں درست قرار دیا تھا۔ ایرانی پاسداران انقلاب نے اس کے جواب میں جوابی کارروائی کا اعلان کیا اور اسرائیل میں متعدد اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا۔ اس دوران بحرین، اردن، کویت، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں قائم امریکی فوجی اڈوں پر بھی حملوں کی اطلاعات سامنے آئیں۔ مشترکہ امریکی۔اسرائیلی حملوں میں سپریم لیڈر علی خامنہ ای سمیت ایران کی قیادت کے چند اہم افراد بھی ہلاک ہو گئے۔