ایران کے خلاف جنگ میں صرف 21 دنوں میں امریکا کے 16 فوجی طیارے تباہ

Trump Trump

ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)

ایران کے خلاف جاری جنگ کے دوران صرف بائیس دنوں میں امریکا کے کم از کم 16 فوجی طیارے تباہ ہو گئے ہیں۔ یہ انکشاف ایک رپورٹ میں کیا گیا ہے جس کے مطابق 28 فروری 2026 کو شروع ہونے والے اس تنازع میں امریکی فوج کو نمایاں آپریشنل نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ رپورٹس کے مطابق تباہ ہونے والے فضائی اثاثوں میں بڑی تعداد بغیر پائلٹ کے ڈرون طیاروں کی ہے۔ اطلاعات کے مطابق تقریباً 10 ایم کیو-9 ریپر ڈرونز، جو نگرانی اور حملوں کے لیے استعمال ہونے والے قیمتی بغیر پائلٹ طیارے ہیں، ایرانی فضائی دفاعی نظام یا جنگی کارروائیوں کے دوران تباہ ہوئے۔ امریکی حکام کے مطابق بعض ریپر ڈرون دشمن کی کارروائیوں کے نتیجے میں مار گرائے گئے جبکہ کچھ کو ایرانی میزائلوں نے نشانہ بنایا۔ ان ڈرونز کے علاوہ دیگر امریکی فوجی اثاثوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

رپورٹس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ایک امریکی ایف-35 اسٹیلتھ جنگی طیارہ ایران کے خلاف ایک جنگی مشن کے دوران مشتبہ ایرانی فائرنگ کی زد میں آ گیا تھا جس کے بعد اسے مشرقِ وسطیٰ کے ایک فوجی اڈے پر ہنگامی لینڈنگ کرنا پڑی۔ یہ ان ابتدائی واقعات میں سے ایک قرار دیا جا رہا ہے جب ایران کے دفاعی نظام نے اس قدر جدید طیارے کو نقصان پہنچایا۔ اسی طرح متعدد امریکی ایندھن بردار طیاروں کو بھی نقصان پہنچا ہے یا وہ تباہ ہوئے ہیں۔ ان میں ایک کے سی-135 اسٹریٹو ٹینکر طیارہ بھی شامل ہے جو عراق میں حادثے کا شکار ہو کر تباہ ہوا اور اس میں جانی نقصان بھی ہوا۔ فوجی تجزیہ کاروں کے مطابق ان نقصانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کے مربوط فضائی دفاعی نظام کی صلاحیت کافی مضبوط ہے جبکہ خطے میں جاری فوجی کارروائیوں کی شدت بھی بہت زیادہ ہے۔ رپورٹس کے مطابق صرف ریپر ڈرونز کی قیمت ہی کروڑوں ڈالر فی یونٹ ہے، اس لیے ان کی بڑی تعداد میں تباہی امریکی فوج کے لیے ایک مہنگا نقصان تصور کی جا رہی ہے۔ دوسری جانب خبر رساں ادارے کے مطابق اس جنگ میں تقریباً 200 امریکی فوجی زخمی بھی ہوئے ہیں اور تباہ ہونے والے فوجی اثاثوں میں ایم کیو-9 ریپر ڈرونز سمیت دیگر فضائی وسائل شامل ہیں۔