ٹرمپ نے ایران جنگ کیلئے پیٹ ہیگسیتھ کو قربانی کا بکرا بنانے کا اشارہ کر دیا

Pete Hegseth Pete Hegseth
Secretary of War Pete Hegseth hosts a prayer service at the Pentagon, Washington, D.C., Mar. 25, 2026. (DoW photo by U.S. Navy Petty Officer 1st Class Eric Brann)

ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کی رات ٹینیسی میں ایک تقریب کے دوران اپنے دفاعی وزیر پیٹ ہیگسیتھ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ “پیٹ، مجھے لگتا ہے کہ تم ہی پہلے شخص تھے جس نے کہا تھا کہ ‘چلو کریں’، کیونکہ انہیں جوہری ہتھیار نہیں رکھنے دینا چاہیے۔” یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب ٹرمپ نے ایران کی انرجی انفراسٹرکچر پر بمباری کی دھمکی کو پانچ دن کے لیے معطل کر دیا تھا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکہ کے ایلچیوں (جن میں ان کے داماد کشنر اور تاجر دوست سٹیون وٹکوف شامل ہیں) اور ایک “معزز” ایرانی رہنما کے درمیان بات چیت جاری ہے، البتہ یہ سپریم لیڈر آیت اللہ مجتمیٰ خامنہ ای نہیں ہیں۔
دوسری جانب ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ٹرمپ “ایران کے سخت انتباہ” کے بعد پیچھے ہٹے ہیں، جس میں خلیج کے ممالک سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں امریکی فوجی اڈوں پر حملوں کی دھمکی دی گئی تھی۔
مغربی ایشیا میں دشمنی کے درمیان نسبتاً نرم رویے کی وجہ سے مالیاتی مارکیٹوں میں بڑی حرکت دیکھی گئی۔ ماہرین کا خیال ہے کہ امریکہ اپنی پوزیشن کو نرم کرنے اور دنیا کے سامنے ایک مخصوص بیانیہ پیش کرنے کی کوشش کر رہا ہے، لیکن بدترین صورتحال میں ٹرمپ فوری طور پر اپنا موقف تبدیل کر کے دفاعی وزیر پیٹ ہیگسیتھ کو ایران جنگ کا ذمہ دار ٹھہرا کر قربانی کا بکرا بنا سکتے ہیں۔ صدر ٹرمپ پہلے ہی ایران کے خلاف ناکام جنگ کا الزام اپنے دفاعی وزیر پیٹ ہیگسیتھ پر ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔