اسلام آباد (صداۓ روس)
پاکستان کے شمالی جنگلوں میں ایک نایاب اور خوبصورت اڑنے والی گلہری (Flying Squirrel) کی دریافت نے جنگلی حیات کے ماہرین میں خوشی کا ماحول پیدا کر دیا ہے۔
یہ ریڈ جائنٹ فلائنگ اسکویریل (Red Giant Flying Squirrel) اپنے چمکدار سرخ رنگ کے بالوں اور شاندار گلائیڈنگ کی صلاحیت کی وجہ سے بہت منفرد ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ دریافت علاقے کی حیاتیاتی تنوع کے لیے ایک اہم پیش رفت ہے۔ اڑنے والی گلہری درختوں کے درمیان ہوا میں آسانی سے اڑ سکتی ہے۔ اس کی بازوؤں اور ٹانگوں کے درمیان موجود خاص جلد (پٹاگیوم) اسے پیراشوٹ کی طرح استعمال کرنے میں مدد دیتی ہے۔ ایک چھلانگ میں یہ 50 سے 100 میٹر تک کا فاصلہ طے کر سکتی ہے۔
یہ رات کا جانور ہے جو دن میں درختوں کے سوراخوں میں چھپ کر سوتی ہے اور رات کو پھل، بیج، پتے اور چھوٹے کیڑے مکوڑے کھاتی ہے۔ جنگل میں بیجوں کی منتقلی میں اس کا اہم کردار ہے جو نئے درخت اگانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ ماہرین نے اس نایاب پرجاتی کی حفاظت کے لیے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔ بڑھتی ہوئی جنگلات کی کٹائی، شکار اور ماحولیاتی تبدیلیاں اس کی بقا کے لیے خطرہ بن رہی ہیں۔ یہ دریافت نہ صرف پاکستان کی قدرتی خوبصورتی کو اجاگر کرتی ہے بلکہ جنگلی حیات کی تحقیق اور رہائش گاہوں کے تحفظ کی اہمیت کو بھی واضح کرتی ہے۔
پاکستان میں اڑنے والی گلہریاں
پاکستان کے شمالی علاقوں، خاص طور پر گلگت بلتستان، خیبر پختونخوا اور کشمیر کے پہاڑی جنگلوں میں کئی اقسام کی اڑنے والی گلہریاں پائی جاتی ہیں۔ ان میں سب سے مشہور اور نایاب ریڈ جائنٹ فلائنگ اسکویریل (دیوقامت سرخ اڑن گلہری) ہے جس کے بال سرخ رنگ کے ہوتے ہیں۔ یہ رات کا جانور ہے اور دن میں درختوں کے سوراخوں یا گھونسلوں میں چھپ کر سوتی ہے۔