ایران جنگ سے فائدہ نہیں اٹھا رہے، روس کا واضح ردعمل

ماسکو (صداۓ روس)

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا ہے کہ روس مشرق وسطیٰ میں جاری تنازعے سے خوش نہیں ہے اور نہ ہی وہ دوسرے ممالک کے مسائل سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ فرانس ٹیلی ویژن کو دیے گئے انٹرویو میں لاوروف سے پوچھا گیا کہ کیا روس امریکہ اور اسرائیل کی ایران پر بمباری اور آبنائے ہرمز میں خام تیل کی نقل و حرکت میں کمی کی وجہ سے بڑھتی ہوئی تیل کی قیمتوں سے فائدہ اٹھا رہا ہے۔ اس پر لاوروف نے کہا ہم کبھی بھی خوش نہیں ہوتے جب دوسرے لوگ یا ممالک جنگیں شروع کریں اور اس کی وجہ سے عالمی منڈیوں میں ہلچل پیدا ہو جس سے توانائی اور دیگر اشیاء کی قیمتیں بڑھ جائیں جو روسی فیڈریشن برآمد کرتی ہے۔

تاہم انہوں نے زور دیا کہ جنگ عالمی منڈیوں میں جھٹکا پیدا کر رہی ہے، اس کے باوجود ماسکو “ہر حال میں ان تمام لوگوں کے ساتھ تجارت اور معاشی تعلقات برقرار رکھے گا جو ہمارے ساتھ تجارت کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ لاوروف نے کہا کہ امریکہ عالمی توانائی کی منڈیوں پر غلبہ حاصل کرنا چاہتا ہے۔ انہوں نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے واضح طور پر اشارہ کیا تھا کہ وہ ایران کے ساتھ مل کر آبنائے ہرمز پر کنٹرول چاہتے ہیں۔ انہوں نے وینزویلا کی مثال بھی دی کہ امریکہ سیاسی جواز کے پیچھے وسائل پر قبضہ کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ انہوں نے کہا دعویٰ کیا گیا تھا کہ منشیات کی سمگلنگ کرنے والی حکومت کو ختم کرنا ضروری ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ امریکہ وینزویلا کی تیل کی صنعت پر کنٹرول حاصل کر رہا ہے۔

لاوروف نے امریکہ کی جانب سے روسی تیل کی برآمدات پر پابندیوں میں نرمی کے فیصلے پر بھی تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ “امریکی پابندیاں بالکل غیر قانونی ہیں۔ ان کی تعمیل کا کوئی سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ انہوں نے امریکی خزانہ کی جانب سے دی گئی رعایت کو بے معنی قرار دیا اور کہا کہ ٹینکرز “پہلے کی طرح ہی حرکت کر رہے ہیں۔ ہمارے لیے اور ہمارے ایماندار اور قابل اعتماد پارٹنرز کے لیے یہ پابندیاں موجود ہی نہیں ہیں۔