ٹرمپ کا جنگ کے خاتمے کو آبنائے ہرمز کھولنے سے مشروط کرنے سے انکار

Strait of Hormuz Strait of Hormuz

ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے مشیروں کو بتایا ہے کہ وہ ایران کے خلاف امریکی فوجی آپریشن ختم کرنا چاہتے ہیں چاہے آبنائے ہرمز شپنگ کے لیے عام طور پر بند ہی رہے۔ وال اسٹریٹ جرنل نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ امریکی حکام کا خیال ہے کہ آبنائے ہرمز میں نیویگیشن بحال کرنے کے لیے ایران کے خلاف چھ ہفتوں کی کارروائی درکار ہوگی۔ ٹرمپ نے فیصلہ کیا ہے کہ واشنگٹن اپنے اہم اہداف حاصل کر لے، جن میں ایرانی بحریہ کو کچلنا اور میزائل اسٹاکس کو تباہ کرنا شامل ہے۔ اس کے بعد دشمنی ختم کر کے سفارتی ذرائع سے نیویگیشن بحال کرنے کی کوشش کی جائے۔ اگر سفارتی کوششیں ناکام رہیں تو امریکہ یورپ اور خلیجی ممالک پر دباؤ ڈالے گا کہ وہ آبنائے کھولنے کی قیادت کریں۔
28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے خلاف جنگ شروع کی تھی جس میں تہران سمیت بڑے شہروں کو نشانہ بنایا گیا۔ اسلامی انقلابی گارڈ کور نے اسرائیل پر بڑا حملہ کیا۔ بحرین، اردن، عراق، قطر، کویت، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب میں امریکی فوجی اڈوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ ایران نے آبنائے ہرمز کو امریکہ، اسرائیل اور ان ممالک کے جہازوں کے لیے بند کر دیا تھا جو اسلامی جمہوریہ کے خلاف جارحیت کی حمایت کر رہے تھے۔ تنازع کے دوران کئی ٹینکرز پر حملے کیے گئے جنہوں نے تہران کی اجازت کے بغیر آبنائے عبور کرنے کی کوشش کی۔ 25 مارچ کو ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا تھا کہ ایران نے دوستانہ ممالک بشمول روس، انڈیا، عراق، چین اور پاکستان کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دے دی ہے۔