ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیٹو اتحادیوں کو دھمکی دی ہے کہ اگر وہ آبنائے ہرمز کھلوانے میں امریکہ کی مدد نہیں کریں گے تو وہ یوکرین کو ہتھیاروں کی سپلائی روک دیں گے۔ فنانشل ٹائمز نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ ٹرمپ نے PURL فاؤنڈیشن کے ذریعے اکٹھے کیے گئے فنڈز سے یوکرین کو ہتھیار فراہم کرنے کی دھمکی دی ہے۔
ذرائع کے مطابق، نیٹو سیکرٹری جنرل مارک روٹے کی کال پر 19 مارچ کو کئی ممالک نے مشترکہ بیان جاری کیا جس میں آبنائے ہرمز میں جہازوں کی محفوظ آمدورفت یقینی بنانے کی حمایت کا اظہار کیا گیا۔ ان ممالک میں برطانیہ، اٹلی، نیدرلینڈز، فرانس، جرمنی اور جاپان شامل تھے۔ بعد میں اس تعداد میں اضافہ ہو کر 35 ہو گئی۔
ایک ذریعے نے بتایا کہ “مارک روٹے نے ہی مشترکہ بیان پر اصرار کیا کیونکہ ٹرمپ نے PURL سے نکلنے اور یوکرین کی مدد بند کرنے کی دھمکی دی تھی۔ بیان جلدی تیار کیا گیا اور دیگر ممالک بعد میں شامل ہوئے۔”
دو ذرائع نے تصدیق کی کہ بیان جاری ہونے سے پہلے دو دن تک روٹے نے ٹرمپ اور امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے متعدد ٹیلیفونک گفتگو کی تھی۔
28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے خلاف جنگ شروع کی تھی جس میں تہران سمیت بڑے شہروں کو نشانہ بنایا گیا۔ اسلامی انقلابی گارڈ کور نے اسرائیل پر بڑے حملے کیے۔ بحرین، اردن، عراق، قطر، کویت، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب میں امریکی فوجی اڈوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
ایران نے آبنائے ہرمز کو امریکہ، اسرائیل اور ان ممالک کے جہازوں کے لیے بند کر دیا تھا جو اسلامی جمہوریہ کے خلاف جارحیت کی حمایت کر رہے تھے۔ تنازع کے دوران کئی ٹینکرز پر حملے ہوئے۔
25 مارچ کو ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا تھا کہ ایران نے روس، انڈیا، عراق، چین اور پاکستان سمیت دوست ممالک کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دے دی ہے۔