امریکی پائلٹ کی گرفتاری جنگ کا رخ بدل سکتی ہے، میڈیا

F-15 F-15

ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)

ایران میں گرائے گئے امریکی لڑاکا طیارے کے ایک پائلٹ کی قسمت ایران جنگ کے مستقبل کا فیصلہ کر سکتی ہے۔ امریکی حکام نے بتایا کہ طیارے کے دو پائلٹس میں سے ایک کو امریکی فورسز نے ایران کے اندر گہرائی میں جا کر بچا لیا ہے۔ دوسرے پائلٹ کی ریسکیو ایک حیران کن کامیابی ہوگی، لیکن اگر وہ ایرانی فورسز یا مقامی ملیشیا کے ہاتھ لگ گیا تو صورتحال مکمل طور پر تبدیل ہو سکتی ہے۔ امریکی فورسز نے بلیک ہاک ہیلی کاپٹرز، سی-130 ٹرانسپورٹ طیاروں اور نگرانی کے ڈرونز کا استعمال کرتے ہوئے ریسکیو آپریشن کیا۔ پہلے پائلٹ کی ریسکیو آپریشن کے دوران امریکی فریق کو مزید جانی نقصان نہیں ہوا۔

تاہم اگر دوسرا پائلٹ گرفتار ہو گیا تو 1979 کے ایرانی سفارتی یرغمال بحران کی یاد تازہ ہو سکتی ہے۔ اس وقت 444 دن تک امریکی سفارت کاروں کی گرفتاری نے امریکی عوام کی رائے تبدیل کر دی تھی اور صدر جمی کارٹر کی انتخابی شکست کا باعث بنی تھی۔ اگر ایران پائلٹ کی ویڈیو جاری کرتا ہے تو صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر کانگریس، فوجی خاندانوں، سابق فوجیوں اور عوام کی طرف سے شدید دباؤ پڑے گا کہ آپریشن روک کر پائلٹ کی رہائی کے لیے مذاکرات کیے جائیں۔ اس صورت میں ایران پر فضائی حملے جاری رکھنا سیاسی طور پر مشکل ہو جائے گا اور جنگ بندی کم فائدہ مند شرائط پر کرنی پڑ سکتی ہے۔