امریکی صدر ٹرمپ نے کینیڈا کے انضمام کو ناممکن قرار دے دیا

Trump Trump

ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مبینہ طور پر نجی گفتگو میں یہ تسلیم کیا ہے کہ کینیڈا کا امریکا کا حصہ بننا ممکن نہیں، اگرچہ وہ پہلے اس بارے میں اشارے دیتے رہے ہیں۔ یہ بات برطانوی صحافی رابرٹ ہارڈمین کی آنے والی کتاب کے ایک اقتباس میں سامنے آئی ہے۔ گزشتہ ایک سال کے دوران ٹرمپ کئی مرتبہ کینیڈا کو امریکا کی اکیاونواں ریاست بنانے کا خیال پیش کر چکے ہیں اور امریکا و کینیڈا کی سرحد کو “مصنوعی” قرار دے چکے ہیں۔ دوسری جانب کینیڈا کے وزیرِاعظم مارک کارنی نے واضح کیا ہے کہ کینیڈا کسی بھی صورت میں امریکا کا حصہ نہیں بنے گا۔ اتوار کے روز ایک برطانوی اخبار نے رابرٹ ہارڈمین کی کتاب سے اقتباس شائع کیا، جس میں ٹرمپ سے ہونے والی ایک گفتگو کا ذکر ہے۔ اس گفتگو میں ہارڈمین نے امریکی صدر کو بتایا کہ کینیڈا کے ممکنہ انضمام سے برطانیہ کے بادشاہ چارلس سوم ناراض ہو سکتے ہیں، کیونکہ وہ کینیڈا کے بھی سربراہِ مملکت ہیں۔ اس بات پر ٹرمپ نے مبینہ طور پر توقف کیا اور کہا کہ کینیڈا کی اپنی دو سو سالہ تاریخ ہے اور اسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے مطابق “اسے تین یا ساڑھے تین سال میں ختم نہیں کیا جا سکتا، اس لیے لگتا ہے کہ یہ ممکن نہیں ہوگا۔” مصنف کے مطابق یہی وہ لمحہ تھا جب ٹرمپ نے پہلی بار یہ تسلیم کیا کہ جب تک کینیڈا بادشاہت کے تحت ہے، اس پر قبضہ یا انضمام آسان نہیں۔

ٹرمپ ماضی میں برطانوی شاہی خاندان اور مرحومہ ملکہ الزبتھ دوم کے بارے میں احترام کا اظہار کرتے رہے ہیں، تاہم انہوں نے مبینہ طور پر کینیڈا کے بعض سیاستدانوں پر تنقید بھی کی ہے اور کہا ہے کہ وہ سامنے اچھے اور پیٹھ پیچھے تنقید کرتے ہیں۔ اس سے پہلے ٹرمپ یہ بھی دعویٰ کرتے رہے ہیں کہ امریکا ہر سال کینیڈا کی معیشت کو تقریباً 200 ارب ڈالر کی سبسڈی دیتا ہے، اور اسی بنیاد پر کینیڈا کو امریکا کی اکیاونواں ریاست بنانے کو زیادہ مناسب سمجھتے ہیں۔