بڑی خوشخبری: پاکستان اور روسی اقتصادی بلاک کے درمیان فری ٹریڈ معاہدہ زیرِ غور

سینٹ پیٹرزبرگ (صدائے روس)

یوریشین اکنامک یونین (EAEU) پاکستان اور تیونس کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدوں (FTA) کے امکانات کا جائزہ لے رہی ہے۔ یہ بات روسی وزارتِ صنعت و تجارت کے اسٹیٹ سیکریٹری اور نائب وزیر رومان چیکوشوف نے سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم (ПМЭФ-2026) کے موقع پر روسی خبر رساں ادارے TASS کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہی۔ رومان چیکوشوف کے مطابق یوریشین اکنامک یونین اور تیونس کے درمیان آزاد تجارتی زون کے قیام پر مذاکرات شروع کرنے کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے، جبکہ پاکستان کے ساتھ بھی اسی نوعیت کے معاہدے کے حوالے سے کام جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ افریقی ممالک کی جانب سے بھی اس طرح کے اقتصادی تعاون میں دلچسپی ظاہر کی جا رہی ہے اور یوریشین اکنامک کمیشن ممکنہ شراکت دار ممالک کا جائزہ لے رہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ یوریشین اکنامک کمیشن مختلف ممالک کے ساتھ آزاد تجارت کے معاہدوں پر مسلسل کام کر رہا ہے اور متعدد ریاستوں کے ساتھ مشاورت جاری ہے۔ ان کے مطابق بھارت کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدے کے مذاکرات بھی پیش رفت کے مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں اور جون 2026 کے دوران مذاکرات کا دوسرا دور متوقع ہے۔

اگر پاکستان اور یوریشین اکنامک یونین کے درمیان آزاد تجارتی معاہدہ طے پا جاتا ہے تو پاکستان کو روس، بیلاروس، قازقستان، آرمینیا اور کرغیزستان کی منڈیوں تک بہتر رسائی حاصل ہو سکتی ہے۔ اس کے نتیجے میں پاکستانی ٹیکسٹائل، چاول، زرعی مصنوعات، کھیلوں کے سامان اور دیگر برآمدی شعبوں کو نمایاں فائدہ پہنچنے کی توقع ہے۔

واضح رہے کہ یوریشین اکنامک یونین روس، بیلاروس، قازقستان، آرمینیا اور کرغیزستان پر مشتمل ایک علاقائی اقتصادی اتحاد ہے، جس کا مقصد رکن ممالک کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری اور اقتصادی تعاون کو فروغ دینا ہے۔ یونین اس سے قبل ویتنام، ایران، سربیا اور دیگر ممالک کے ساتھ بھی آزاد تجارتی اور اقتصادی تعاون کے معاہدے کر چکی ہے۔

روس میں مقیم پاکستانی صحافی اور تجزیہ کار اشتیاق ہمدانی کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان اور یوریشین اکنامک یونین کے درمیان آزاد تجارتی معاہدہ طے پا جاتا ہے تو یہ دونوں فریقوں کے اقتصادی تعلقات میں ایک اہم سنگِ میل ثابت ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق اس معاہدے سے پاکستان کو یوریشین خطے کی بڑی منڈیوں تک رسائی حاصل ہوگی، جبکہ تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، زراعت اور صنعتی تعاون کے شعبوں میں نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ برسوں میں پاکستان اور روس کے درمیان بڑھتے ہوئے اقتصادی روابط اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ دونوں ممالک باہمی تجارت اور علاقائی تعاون کو نئی سطح پر لے جانے کے خواہاں ہیں، اور ممکنہ آزاد تجارتی معاہدہ اس سمت میں ایک اہم پیش رفت ثابت ہو سکتا ہے