ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
بھارت ازبکستان کے ساتھ کان کنی اور اہم معدنیات میں تعاون بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے، کیونکہ دونوں ممالک اپنی اسٹریٹجک شراکت داری کو گہرا کر رہے ہیں۔ نئی دہلی عالمی تجارتی کشیدگی کے باعث اپنی اہم معدنیات کی فراہمی کو محفوظ بنانا چاہتا ہے، خاص طور پر نایاب زمینی معدنیات اور مقناطیس جو سبز توانائی کی منتقلی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
ازبکستان کے وزیر خارجہ بختیار سعیدوف نے اپنے بھارتی ہم منصب ایس جے شنکر سے ملاقات کے دوران کہا کہ انہیں وزیراعظم نریندر مودی کے ازبکستان کے دورے کی تیاری کے لیے خصوصی ہدایات دی گئی ہیں۔ انہوں نے بھارت کو جنوبی ایشیا میں اپنا سب سے اہم اسٹریٹجک اور تجارتی پارٹنر قرار دیا۔
بھارتی وزیر تجارت پیوش گوئل نے دونوں ممالک کی کاروباری برادریوں کو مشترکہ سرمایہ کاری، مینوفیکچرنگ اور جدت کے ذریعے تعاون بڑھانے کی دعوت دی۔ موجودہ دو طرفہ تجارت تقریباً 1.5 ارب ڈالر ہے، جسے دونوں ممالک تین سالوں میں دگنا کرنا چاہتے ہیں۔
بھارتی صدر دروپدی مرمو نے سعیدوف سے ملاقات کے دوران دونوں ممالک کے مشترکہ ورثے کو اجاگر کیا، جبکہ 16,000 سے زیادہ بھارتی طلبہ ازبکستان میں اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہے ہیں، جو دونوں ممالک کے درمیان پل کا کام کر رہے ہیں۔