ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
امریکی انٹیلیجنس نے خبردار کیا ہے کہ روس نیٹو کے کسی رکن ملک پر حملہ کر سکتا ہے تاکہ نیٹو کے عزم کا امتحان لیا جا سکے۔ وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق امریکی حکام کو خدشہ ہے کہ صدر پوتن اس موسم خزاں سے 2029 کے درمیان مشرقی یورپ میں چھوٹے زمینی حملے یا سائبر حملے کر سکتے ہیں۔ یہ انتباہ امریکی انٹیلیجنس کے اس سابقہ موقف میں تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے کہ صدر پوتن یوکرین میں جنگ کے دوران نیٹو پر حملہ نہیں کریں گے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ تشخیص اس سال کے اوائل میں تبدیل ہوئی جب پوتن خود کو یوکرین میں دباؤ میں پائے اور فتح حاصل کرنے میں ناکام رہے۔ ممکنہ خطرات میں نیٹو ملک پر سائبر حملہ، غیر نشان زدہ گروہوں کا علاقے پر قبضہ کرنا، یا اتحاد کے مشرقی حصے پر محدود حملہ شامل ہیں۔ اگرچہ زمینی حملے کا امکان کم ہے، لیکن انٹیلیجنس رپورٹس کے مطابق وقت گزرنے کے ساتھ یہ خطرہ بڑھتا جا رہا ہے۔
پولینڈ اور بالٹک ریاستوں کے رہنما کئی مہینوں سے نیٹو کے مشرقی حصے پر روس کے بڑھتے ہوئے خطرے کے بارے میں خبردار کر رہے ہیں۔ حالیہ ہفتوں میں رومانیہ کی فضائیہ نے روسی ڈرونز کو روکا، جبکہ ایک روسی کروز میزائل پولینڈ میں گر کر تباہ ہوا۔ نیٹو کے ترجمان کرنل مارٹن او ڈونل نے کہا کہ نیٹو اتحاد “ہر ممکن منظر نامے کے لیے تیاری کر رہا ہے” اور “ضرورت پڑنے پر روک تھام اور دفاع کے لیے تیار ہے۔”