یوکرین تنازع: ثالثی کی امریکی کوششوں کا خیرمقدم کرتے ہیں، کریملن

Dmitry Peskov Dmitry Peskov

ماسکو (صداۓ روس)

کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ روس نے کبھی بھی یوکرین تنازع کے حل میں امریکہ کی صلاحیتوں کے بارے میں غیر حقیقی توقعات وابستہ نہیں کیں، تاہم ماسکو اس بات کا خیرمقدم کرتا ہے کہ واشنگٹن ثالثی اور سفارتی معاونت کے لیے اپنی خدمات جاری رکھنے پر آمادہ ہے۔ چین میڈیا گروپ کو St. Petersburg International Economic Forum 2026 کے موقع پر دیے گئے ایک انٹرویو میں پیسکوف نے کہا کہ روس نے کبھی “خوش فہمیوں کی عینک” نہیں پہنی اور نہ ہی یہ سمجھا کہ واشنگٹن کسی پیچیدہ مسئلے کو یکطرفہ طور پر فوری حل کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اپنے قومی مفادات کے مطابق پالیسی اختیار کرتا ہے اور روس اس حقیقت کا احترام کرتا ہے، کیونکہ روس کے بھی اپنے قومی مفادات ہیں جن کا تحفظ اس کی اولین ترجیح ہے۔ کریملن کے ترجمان نے مزید کہا کہ اس کے باوجود روس یوکرین کے بحران کے حل کے لیے امریکہ کی جانب سے فراہم کی جانے والی سفارتی معاونت اور ثالثی کی کوششوں کا خیرمقدم کرتا ہے اور انہیں مثبت پیش رفت سمجھتا ہے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب روس، یوکرین اور مغربی ممالک کے درمیان تنازع کے خاتمے کے لیے مختلف سفارتی رابطے اور امن کوششیں جاری ہیں۔