اشتیاق ہمدانی (صداۓ روس)
فیصل نیاز ترمذی نے کہا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی میں کسی فریق کو فاتح قرار نہیں دیا جا سکتا، پاکستان ایک غیر جانبدار ثالث کے طور پر صرف امن کے قیام کا خواہاں ہے۔ روسی میڈیا کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں پاکستانی سفیر نے بتایا کہ پاکستان نے تنازع کے آغاز سے ہی دونوں ممالک کے درمیان رابطے برقرار رکھے اور مذاکرات کی راہ ہموار کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد ان اہم مذاکرات کی میزبانی کے لیے مکمل طور پر تیار ہے اور اسے خطے میں امن کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ سفیر کے مطابق پاکستان کے شہباز شریف، نائب وزیراعظم اور عسکری قیادت اس سفارتی عمل میں متحرک ہیں، جبکہ دونوں فریقوں کو مذاکرات کی میز پر لانا ایک بڑی کامیابی ہے۔ انہوں نے کہا کہ خلیجی خطہ عالمی توانائی کا اہم مرکز ہے، جہاں امن کا قیام نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی معیشت کے لیے بھی ناگزیر ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران اور امریکا دونوں نے ابتدائی طور پر سخت مؤقف اختیار کیا، تاہم مذاکرات کے آغاز کے بعد کسی مشترکہ حل تک پہنچنے کی امید موجود ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ “جنگ میں کوئی جیتتا نہیں، دونوں فریق نقصان اٹھاتے ہیں، اس لیے امن ہی واحد راستہ ہے۔”
سفیر نے اس خدشے کا بھی اظہار کیا کہ اگر تنازع مزید بڑھتا تو یہ عالمی سطح پر سنگین نتائج کا باعث بن سکتا تھا، حتیٰ کہ بڑی جنگ کا خطرہ بھی موجود تھا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے دونوں ممالک کو یہی باور کرایا کہ تصادم کے بجائے بات چیت ہی مسائل کا حل ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ معاہدے کے مسودے پر کام جاری ہو سکتا ہے، تاہم اس کا انحصار دونوں فریقوں کی سنجیدگی اور لچک پر ہوگا۔ پاکستان ہر ممکن سفارتی سہولت فراہم کرنے کے لیے تیار ہے، چاہے مذاکرات براہ راست ہوں یا بالواسطہ۔ سفیر فیصل نیاز ترمذی نے اس امید کا اظہار کیا کہ جاری مذاکرات خطے میں دیرپا امن اور استحکام کی بنیاد بن سکتے ہیں، تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ایسے سفارتی عمل میں کامیابی اور ناکامی دونوں امکانات موجود ہوتے ہیں۔