معاہدہ نہ ہوا تو ایران کے خلاف دوبارہ کارروائی کیلئے تیار ہیں، امریکی وزیر جنگ

Pete Hegseth Pete Hegseth

ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)

امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگسیتھ نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران کے ساتھ معاہدہ نہ ہو سکا تو امریکا دوبارہ جنگی کارروائیاں شروع کرنے کیلئے تیار ہے۔ پینٹاگون میں پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے Dan Caine کے ہمراہ کہا کہ ایران کو واضح پیغام دیا جا چکا ہے کہ امریکا اس کی سرگرمیوں پر نظر رکھے ہوئے ہے اور دونوں ممالک کی عسکری صلاحیتوں کا کوئی موازنہ نہیں۔ امریکی وزیر جنگ کا کہنا تھا کہ ایران کو اپنے فیصلے دانشمندی سے کرنے ہوں گے کیونکہ کسی بھی صورت اسے جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ انہوں نے کہا کہ مذاکرات جاری ہیں، تاہم اگر کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکی افواج مکمل طور پر کارروائی کیلئے تیار ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز پر کنٹرول کے دعوے درست نہیں، بلکہ تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں بحری قزاقی کے مترادف ہیں۔ ان کے مطابق امریکی بحریہ خطے میں مکمل کنٹرول رکھتی ہے اور ضرورت پڑنے تک ناکہ بندی جاری رکھی جائے گی۔

جنرل ڈین کین نے اس موقع پر کہا کہ آبنائے ہرمز میں ناکہ بندی کا اطلاق تمام جہازوں پر ہوتا ہے، چاہے وہ کسی بھی ملک سے تعلق رکھتے ہوں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایرانی بندرگاہوں کی طرف آنے یا جانے والے جہازوں کو روکا جائے گا اور ضرورت پڑنے پر انہیں تحویل میں بھی لیا جا سکتا ہے۔

امریکی حکام کے مطابق اب تک متعدد جہازوں کو واپس موڑا جا چکا ہے، جبکہ کسی بھی جہاز کے خلاف براہِ راست کارروائی نہیں کی گئی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ناکہ بندی کی خلاف ورزی کی صورت میں طاقت کا استعمال بھی کیا جا سکتا ہے۔