امریکا کا اسپین کو نیٹو سے معطل کرنے پر غور، میڈیا رپورٹ

Washington dc Washington dc

ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)

امریکا نیٹو کے بعض رکن ممالک کے خلاف سخت اقدامات پر غور کر رہا ہے، جنہوں نے ایران کے خلاف جنگ میں واشنگٹن کا ساتھ دینے سے انکار کیا۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایک اندرونی پینٹاگون ای میل میں اسپین کو نیٹو سے معطل کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔ رپورٹ کے مطابق امریکی محکمۂ دفاع میں اعلیٰ سطح پر گردش کرنے والی اس دستاویز میں یورپی اتحادیوں پر ناراضی کا اظہار کیا گیا ہے، جنہوں نے جنگ کے دوران امریکا کو اپنی فضائی حدود اور فوجی اڈے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی۔ ایک امریکی عہدیدار کے حوالے سے بتایا گیا کہ واشنگٹن ایسے ممالک کے خلاف علامتی اور عملی اقدامات پر غور کر رہا ہے۔ مجوزہ اقدامات میں نیٹو کے اہم عہدوں سے بعض ممالک کو ہٹانا اور اسپین کی رکنیت عارضی طور پر معطل کرنا شامل ہے۔ تاہم نیٹو کے ایک عہدیدار نے برطانوی نشریاتی ادارے کو بتایا کہ اتحاد کے قوانین میں کسی بھی رکن ملک کو معطل یا خارج کرنے کی کوئی شق موجود نہیں، اور رکنیت ختم کرنے کا واحد طریقہ آرٹیکل 13 کے تحت ملک کا خود علیحدگی اختیار کرنا ہے۔ اسپین کے وزیر اعظم Pedro Sánchez نے اس حوالے سے خدشات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس معاملے پر بالکل فکر مند نہیں ہیں اور اسپین نیٹو کا ایک قابلِ اعتماد رکن ہے۔ واضح رہے کہ اسپین نے امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف کارروائیوں پر سخت تنقید کی ہے اور اپنی سرزمین و فضائی حدود کے استعمال کی اجازت دینے سے انکار کیا تھا۔

رپورٹ کے مطابق امریکا دیگر اقدامات پر بھی غور کر رہا ہے، جن میں برطانیہ کے جزائر فاک لینڈ (مالویناس) پر دعوے کے حوالے سے سفارتی حمایت پر نظرثانی شامل ہے۔ یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب امریکی صدر Donald Trump نیٹو اتحادیوں پر ایران کے خلاف کارروائیوں میں شمولیت کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں۔