آبنائے ہرمز میں امریکی فوجی اسکواٹس عارضی طور پر معطل، ناکہ بندی برقرار

F-18 F-18

ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز میں جہازوں کو فوجی تحفظ فراہم کرنے کے آپریشن کو عارضی طور پر روکنے کا اعلان کیا ہے، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی حتمی معاہدے تک بدستور جاری رہے گی۔ امریکہ کی جانب سے “پروجیکٹ فریڈم” کے نام سے شروع کیا گیا یہ آپریشن تیل بردار جہازوں اور دیگر تجارتی بحری جہازوں کو عالمی سطح پر اہم سمندری گزرگاہ آبنائے ہرمز سے بحفاظت گزارنے کے لیے تھا، جہاں سے دنیا کی تقریباً پانچواں حصہ تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔ صدر ٹرمپ نے اس مشن کو ایک انسانی ہمدردی کی کوشش قرار دیا تھا۔
بعد ازاں ٹرمپ نے اعلان کیا کہ پاکستان سمیت دیگر ممالک کی درخواست اور ایران کے ساتھ مذاکرات میں “نمایاں پیش رفت” کے باعث واشنگٹن اور تہران نے باہمی طور پر اس آپریشن کو مختصر مدت کے لیے معطل کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
اس اعلان سے چند گھنٹے قبل امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے صحافیوں کو بتایا تھا کہ “ایپک فیوری” نامی ابتدائی فوجی آپریشن ختم ہو چکا ہے اور اب توجہ “پروجیکٹ فریڈم” پر مرکوز ہے۔ دوسری جانب امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ بھی اس اچانک فیصلے سے بظاہر لاعلم دکھائی دیے، کیونکہ انہوں نے اسی روز ایک پریس کانفرنس میں دعویٰ کیا تھا کہ دنیا بھر کے مزید سینکڑوں جہاز اس راستے سے گزرنے کے لیے تیار ہیں۔
یہ پیش رفت امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں ایک نئے موڑ کے طور پر سامنے آئی ہے۔ ایرانی فوج نے خبردار کیا تھا کہ آبنائے ہرمز میں داخل ہونے والی کسی بھی غیر ملکی مسلح قوت کو نشانہ بنایا جائے گا، اور اس گزرگاہ سے محفوظ عبور کے لیے ایرانی افواج کے ساتھ رابطہ ضروری ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے دعویٰ کیا کہ امریکی افواج نے چند ایرانی کشتیوں کو تباہ کیا جو مبینہ طور پر اس مشن میں مداخلت کر رہی تھیں، تاہم ایران نے اس دعوے کو جھوٹ قرار دیا۔ ایرانی میڈیا کے مطابق ایرانی فورسز نے امریکی بحری جہازوں کے قریب انتباہی فائر بھی کیے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے “پروجیکٹ فریڈم” کو “پروجیکٹ ڈیڈلاک” قرار دیتے ہوئے امریکہ کو خبردار کیا کہ وہ کسی نئی دلدل میں پھنسنے سے محتاط رہے۔
واضح رہے کہ آبنائے ہرمز اس بحران کا مرکز بنی ہوئی ہے، خاص طور پر اس وقت سے جب امریکہ اور اسرائیل نے فروری کے آخر میں ایران پر حملے کیے۔ اپریل کے اوائل میں دونوں ممالک کے درمیان ایک نازک جنگ بندی ہوئی، تاہم سمندری رسائی کے معاملے پر کشیدگی برقرار ہے۔ ایران امریکی بحری ناکہ بندی کو “جنگی اقدام” اور جنگ بندی کی خلاف ورزی قرار دیتا ہے۔
صدر ٹرمپ کے مطابق اس عارضی معطلی کا مقصد مذاکرات کاروں کو موقع دینا ہے تاکہ وہ ایک “مکمل اور حتمی معاہدے” تک پہنچ سکیں۔